یورپی یونین کے لیے نوبیل امن انعام

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 17:11 GMT 22:11 PST

یورپی یونین نے یورپ کو جنگجو براعظم سے پرامن براعظم بنا دیا ہے: نوبیل کمیٹی کے صدر یاگلن

یورپی یونین کو یورپ میں چھ عشروں سے امن کے فروغ کے لیے کام کرنے پر نوبیل انعام برائے امن دو ہزار بارہ سے نوازا گیا ہے۔

نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ’یورپی یونین نے یورپ کو جنگجو براعظم سے پرامن براعظم بنا دیا ہے۔‘

یورپی یونین کو یہ اعزاز اس وقت ملا ہے جب وہ اپنی تاریِخ کے سب سے بڑے بحران سے گزر رہی ہے اور اس کے بیشتر اراکین کساد بازاری اور سماجی گڑبڑ کا شکار ہیں۔

اس سے پہلے آخری بار جس تنظیم کو یہ انعام دیا گیا تھا وہ ’ڈاکٹر بِنا سرحد‘ (ڈاکٹرز ود آؤٹ فرنٹیرز) نامی فلاحی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں امراض کے خاتمے کے لیے کام کرتی ہے۔

انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کے صدر توربیورن یاگلن نے یورپ کے حالیہ اقتصادی بحران اور سماجی بدامنی کا اعتراف کیا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ کمیٹی چاہتی ہے کہ وہ یونین کے چھ عشروں پر محیط کام پر توجہ مرکوز کرے جس کے دوران ’امن اور مفاہمت، جمہوریت اور انسانی حقوق‘ میں پیش رفت ہوئی ہے۔

یاگلن نے دوسری جنگِ عظیم دوم کے بعد فرانس اور جرمنی کے درمیان مفاہمت کو پروان چڑھانے پر یورپی یونین کے کام کا ذکر کیا۔

انھوں نے انیس سو ستر کی دہائی میں سپین، پرتگال اور یونان میں آمرانہ حکومتوں کے خاتمے کے بعد ان ممالک کو ساتھ لے کر چلنے پر بھی تنظیم کو سراہا۔

یونین کا مفاہمانہ کام اب بحیرۂ بلقان کے ملکوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور کرویشیا کو رکنیت ملنے والی ہے۔

یورپی یونین کے بعض اعلیٰ حکام یہ خبر سن کر پھولے نہیں سمائے۔

یورپی یونین کمیشن کے صدر ہوزے مینول بروسو نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا: ’یورپی یونین اور اس کے پچاس کروڑ باشندوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انھیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔‘

"یورپی یونین اور اس کے پچاس کروڑ باشندوں کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ انھیں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔"

یورپی یونین کمیشن کے صدر

یورپین کونسل کے صدر ہرمین وان رامپوی نے کہا کہ اس انعام کے ذریعے ’تاریخ کے سب سے بڑے امن ساز‘ کے کام کا اعتراف کیا گیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا: ’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس امن، جمہوریت اور آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے ہم زیادہ سخت محنت کرنا ہو گی۔‘

بی بی سی کے یورپی نامہ نگار میتھیو پرائس کہتے ہیں کہ یورپی یونین کی کامیابیاں اپنی جگہ لیکن کمیٹی نے ان کا اعتراف کرنے کے لیے عجیب وقت کا انتخاب کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یورو زون کے بحران کی وجہ سے آج یورپی یونین ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ منقسم اور کمزور نظر آتی ہے۔

نوبیل کمیٹی کے انتخاب پر ماضی میں بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما کو دو ہزار نو میں اس وقت امن کا نوبیل انعام دیا گیا جب امریکہ دو جنگیں لڑ رہا تھا۔

دو ہزار دس میں چین کے حکومت مخالف کارکن لیو شیاؤبو کو جب امن کا نوبیل انعام دیا گیا تو اس پر چین اتنا برہم ہوا کہ اس نے ناروے کی حکومت سے باضابطہ احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔