بھارت میں پاکستان سے زیادہ فاقہ کشی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 11:23 GMT 16:23 PST
بھارت میں خوراک کی قلت کی ایک تصویر

بھارت پینسٹھویں جبکہ پاکستان ستاونویں نمبر پر ہے

عالمی خوراک کی پیداوار پر ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں بہتر اقتصادی ترقی کے باوجود فاقہ کشی سے نمٹنے کی رفتار بہت سست ہے۔

فاقہ کشی کے اہم مسئلے سے نمٹنے میں بھارت اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور سری لنکا سے بھی پیچھے ہے۔ چین میں اس انڈکس میں بہتری آئی ہے اس لیے وہ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان ستاونویں اور سری لنکا سینتیسویں نمبر پر ہے۔

عالمی فاقہ کشی انڈکس کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے میں افریقی ممالک جنوبی ایشیائی ممالک سے کہیں آگے نظر آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ کے بہت سے حصوں میں خوراک اور غذا کی قلت میں کمی آئی ہے لیکن ایريٹريا اور برنڈی جیسے ممالک میں صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

امریکہ کے تحقیقی ادارے بین الاقوامی فوڈ پالیسی اور کنسرن ورلڈوائڈ نے انہتر ممالک پر مبنی ایک عالمی فاقہ کشی انڈکس تیار کیا ہے جس میں بھارت پینسٹھویں نمبر پر آیا ہے۔

بھارت کے بارے میں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’بھارت مضبوط اقتصادی ترقی کے باوجود دنیا کے فاقہ کشی انڈکس میں پیچھے ہے۔ سنہ انیس سو چھیانوے سے دو ہزار ایک کے درمیان وہاں کچھ بہتری نظر آئی تھی لیکن اب وہ پھر سے تقریباً انیس سو چھیانوے کی سطح پر آ پہنچا ہے۔‘

1996 کی سطح پر

"بھارت مضبوط اقتصادی ترقی کے باوجود دنیا کے فاقہ کشی اشاریہ میں پچھڑ رہا ہے۔ سنہ انیس سو چھیانوے سے دو ہزار ایک کے درمیان وہاں کچھ بہتری نظر آئی تھی لیکن اب وہ پھر سے تقریبا انیس سو چھیانوے کی سطح پر آ پہنچا ہے"

رپورٹ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا بھر میں ذرخیز زمین کم ہوتی جا رہی ہے جب کہ آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس انڈکس میں دنیا کے ایسے بیس ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں فاقہ کشی کی صورت حال خطرناک سطح تک پہنچ رہی ہے۔

اس فہرست میں پوائنٹس ممالک کو ‏ آبادی کے تناسب سے غذائیت میں کمی، پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں معمول سے زیادہ دبلے پن کے تناسب اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں موت کی شرح کی بنیاد پر دیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا اور سب سہارا علاقے کے افریقی ممالک سب سے زیادہ فاقہ کشی کے شکار ہیں۔

افریقی ممالک ایريٹريا اور برنڈی کے علاوہ كریبیائی علاقے میں ہیٹی کو فاقہ کشی کے لحاظ سے انتہائی خطرے والے علاقوں میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیٹی میں حالت مستحکم ہو رہی تھی لیکن سنہ دو ہزار دس کے تباہ کن زلزلے نے پھر سے اسے پچھلی حالت میں پہنچا دیا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں فاقہ کشی سے نمٹنے میں افریقہ کی تعریف کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا کیا ہے کہ اس کا سبب وہاں جنگوں میں کمی ہے، اس کے ساتھ ہی ان ممالک کی حکومتیں بچوں کی صحت کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہیں۔

دوسری جانب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت ہی ایسا ملک ہے جہاں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔