شام:حکومت پر کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST

بیشتر ممالک میں کلسٹر بم کے استعمال پر پابندی عائد ہے

انسانی حقوق کی امریکی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ شام میں حالیہ دنوں میں شہریوں کے خلاف کلسٹر بموں کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق باغیوں سے نمٹنے کے لیے شامی حکومت نے روسی ساخت کے کلسٹر بم استعمال کیے ہیں اور یہ جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے مختلف علاقوں میں گرائے گئے ہیں۔

اتوار کو ہیومن رائٹس واچ نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق شام کی فوج نے شمال جنوبی ہائی وے کے پاس معرات النعمان نامی شہر کے آس پاس کلسٹر بموں کا سب سے زیادہ استعمال کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے فری سیرین آرمی سے وابستہ باغیوں نے اس شہر کو شامی فوج کے قبضے سے چھین لیا تھا تب سے بشار الاسد کی حکومت اسے واپس لینے کے لیے کوشاں ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ویڈیو پر مبنی ایسے شواہد موجود ہیں جس میں گزشتہ ہفتے میں ہی شام کے مختلف علاقوں میں تقریبا بیس کلسٹر بم گرائے گئے جبکہ اس سے پہلے اٹھارہ ماہ میں صرف تین کلسٹر بم استعمال کیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ میں تنظیم کے سینیئر نمائندے فلپ بولوپیئن نے سنیچر کے روز کہا کہ اس سے یہ بات عیاں ہے کہ شام کی حکومت شہریوں کے تئیں بالکل لا پراوہ ہے۔

"ہماری تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ جو کلسٹر بم آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں وہ آر بی کے 50 ہیں، یہ سویت کے بنائے ہوئے کلسٹر بم ہیں۔ ظاہر ہے یہ کافی پرانے ہیں اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ان کی کارکردگی کیا رہی لیکن یہ بہت خطرناک ہیں کیونکہ پرانے بم حدف کے آس پاس کم ہی پھٹتے ہیں اور نتیجاتا اس کے باقیات ادھر ادھر پڑے رہتے ہیں۔ ان کا باقی رہنا اس لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ وہ شہریوں اور بچوں کے لیے ہفتوں، مہینوں اور کئی دفعہ برسوں خطرہ بنے رہتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمیں اس بات کے مزید ثبوتوں کی ضرورت تھی کہ شام کی حکومت اپنے شہریوں اور بچوں کی زندگیوں کی پراوہ نہیں کرتی تو وہ یہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ حکومت کلسٹر بموں کا استعمال آبادی والے علاقے میں کر رہی ہے‘۔

فلپ بولوپیئن نے کلسٹر بموں کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایسے بم تمام علاقوں سے ہٹا دیے جائیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی پہلی رپورٹ میں بھی کہا تھا کہ شام کی حکومت نے جن کلسٹر بموں کا استعمال کیا ہے وہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ممنوع قرار دیے جا چکے ہیں۔

تنظیم میں ہتھیاروں کے امور کے ڈائریکٹر سٹیو گوز کا کہنا تھا ’شام کے فضائی حملوں سے یہ واضح ہے کہ اسے اپنے شہریوں کا خیال بالکل نہیں ہے جس میں وہ مہلک کلسٹر بم آبادی والے علاقے میں گرا رہے ہیں‘۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ شام نے جو کلسٹر بم استعمال کیے ہیں وہ روسی ساخت کے ہیں۔

فلپ بولویپئن کے مطابق ’ہماری تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ جو کلسٹر بم آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں وہ آر بی کے 50 ہیں، یہ سویت کے بنائے ہوئے کلسٹر بم ہیں۔ ظاہر ہے یہ کافی پرانے ہیں اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ان کی کارکردگی کیا رہی لیکن یہ بہت خطرناک ہیں کیونکہ پرانے بم ہدف کے آس پاس کم ہی پھٹتے ہیں اور نتیجتاً اس کے باقیات ادھر ادھر پڑی رہتے ہیں۔ ان کا باقی رہنا اس لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ وہ شہریوں اور بچوں کے لیے ہفتوں، مہینوں اور کئی دفعہ برسوں خطرہ بنے رہتے ہیں۔'

دنیا کے بہت سے ممالک میں کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی عائد ہے لیکن شام ایسے کسی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔