پانچ برطانوی فوجیوں پر قتل کا الزام

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 10:36 GMT 15:36 PST

قتل کا واقعہ افغان صوبے ہلمند میں پیش آیا تھا

برطانوی وزارتِ دفاع نے رائل میرین کور سے تعلق رکھنے والے پانچ برطانوی فوجیوں پر قتل کا الزام عائد کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ الزام افغانستان میں دو ہزار گیارہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کے تناظر میں عائد کیا گیا ہے۔

اس معاملے میں رائل ملٹری پولیس نے نو فوجیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں سے چار فوجیوں کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ پانچ پر قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔

ان فوجیوں کو جمعہ کو اس مشتبہ فوٹیج کے سامنے آنے کے بعد حراست میں لیا گیا جو برطانوی پولیس کو ایک فوجی کے ذاتی لیپ ٹاپ سے ملی تھی۔

یہ واقعہ افغان صوبے ہلمند میں پیش آیا تھا اور برطانوی رائل میرین کور کا تھری کمانڈو بریگیڈ اس وقت وہاں تعینات تھا۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ واقعہ ایک مزاحمت کار کے ساتھ جھڑپ کے بعد پیش آیا اور اس میں کوئی عام شہری ملوث نہیں تھا۔

وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ پانچوں فوجی ’عدالتی کارروائی تک حراست میں رہیں گے اور ایک جاری تحقیقاتی عمل پر مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں‘۔

ان پانچوں برطانوی فوجیوں کا معاملہ برطانوی فوج کی سروس پراسیکیوشن اتھارٹی کو سونپ دیا گیا تھا جس نے ان پر قتل کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔

اب ممکنہ طور پر ان فوجیوں کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑے گا اور سروس پراسکیوشنز کے ڈائریکٹر بروس ہولڈر اس مرحلے کی نگرانی کریں گے۔

بی بی سی کے پروگرام اینڈریو مار شو میں بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع فلپ ہیمنڈ نے اس معاملے کی تفصیلات پر تو بات نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزارتِ دفاع ’لڑائی کے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے‘۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی برطانوی فوجی کو افغانستان میں برطانوی مشن کے حوالے سے گرفتار کیا گیا ہے اور اس پر قتل جیسا الزام لگایا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔