اقتصادیات کا نوبیل امریکی ماہرین کے نام

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 18:36 GMT 23:36 PST

ایلون روتھ ہارورڈ جبکہ لائیڈ شیپلے یو سی ایل اے میں پڑھاتے ہیں

امریکی ماہرینِ اقتصادیات ایلون ورتھ اور لائیڈ شیپلے کو رواں سال اقتصادیات کے نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

نوبیل انعام دینے والی تنظیم نے پیر کو سٹاک ہوم میں انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ماہرین کو بازار کے مختلف نمونوں کے درمیان توازن قائم کرنے کے بارے میں تحقیق پر یہ انعام دیا گیا ہے۔

انعام کے طور پر انہیں تقریباً بارہ لاکھ ڈالر ملیں گے جو وہ دونوں آپس میں تقسیم کریں گے۔

ایلون روتھ ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں جب کہ لائیڈ شیپلے لاس اینجلس میں قائم كیلیفورنيا یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔

انعام کے اعلان کے بعد روتھ نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پوری امید کی جا رہی تھی کہ لائیڈ شیپلے کو نوبل انعام کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ اگر انہیں یہ انعام نہ دیا جاتا تو یہ بڑی بھول ہوتی۔ مجھے مشترکہ طور پر ان کے ساتھ یہ ایوارڈ جیتنے پر بہت خوشی ہے۔

اگرچہ ان دونوں ماہرین نے الگ الگ کام کیا لیکن نوبل جیوری کے مطابق دونوں کے کام نے نئی تحقیق کے لیے راستے کھولے ہیں اور ان کی تحقیق کی وجہ سے کئی بازاروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

شیپلے اور ان کے ساتھی ڈیوڈ گیل نے 1962 میں ایک نیا خیال پیش کیا تھا جس کے تحت اس بات پر تبادلۂ خیال کیا گیا تھا کہ اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں والے بازار میں طلب اور رسد کے فرق کو کیسے کم کیا جائے۔

اس کے بعد اسّی کی دہائی میں ایلون روتھ نے اس بات پر تحقیق کی کہ نئے ڈاکٹروں کے لیے کام کی مارکیٹ کیسی ہے۔

اس وقت یہ ایک بڑا مسئلہ تھا اور میڈیکل طلباء کی کمی کی وجہ سے ہسپتال والے طلباء کو ان کی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی انٹرن شپ کے لیے بلا لیتے تھے۔

اپنے مطالعہ کے دوران ایلون روتھ نے پتہ چلایا کہ میڈیکل طلباء کی کمی سے نمٹنے کے لیے اپنائے گئے طریقے کا اصول شیپلے اور گیل کے اصول کے بہت قریب تھا۔

خیال رہے کہ اقتصادیات کے لیے نوبیل انعام شروع سے نہیں دیا جاتا تھا اور اس کا آغاز 1969 سے ہوا ہے۔

.

.

Continue reading the main story“Start Quote

In the past 50 years, game theorists - and micro-economics in general - have genuinely made the world a better place”

Stephanie Flanders Economics editor

Read more from Stephanie

This original work developed into the Gale-Shapley algorithm, which aims to ensure "stable matching" or the best possible outcome for both sides. "An allocation where no individuals perceive any gains from further trade is called stable," the Academy explained.

This is a key pillar in co-operative game theory, an area of mathematical economics that seeks to determine how rational individuals choose to co-operate.

In the early 1980s, Alvin Roth set out to study the market for newly qualified doctors.

This was a problem as a scarcity of medical students - such as that which existed in the US in the 1940s - forced hospitals to offer internships earlier and earlier, sometimes several years before graduation, meaning that a match was made before they could produce evidence of their skills and qualifications.

A clearing system was set up to try to better match medical students and hospitals. In a paper from 1984, Mr Roth studied the algorithm used by this clearing house and discovered that it was very close to the Gale-Shapley algorithm, showing that it applied in real-life situations.

The awards continue a strong US run of victories in the category of economic sciences.

Forty-three prizes in economics have been awarded since 1969.

The prize was not part of the awards set out in Alfred Nobel's will and it was established in 1968 by Sweden's central bank, the Sveriges Riksbank.

The prize money for the two academics is 8m Swedish kronor (£746,000; $1.2m), to be split between them.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔