فلپائن: حکومت اور باغیوں میں امن معاہدہ

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 14:07 GMT 19:07 PST

یہ معاہدہ اسی ماہ ہمسیایہ ملک ملیشیا میں مذاکرات کی کامیابی کے بعد طے پایا ہے

فلپائن کی حکومت اور ملک کے سب سے بڑے مسلح باغی گروہ کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا مقصد وہاں چالیس برس سے جاری شورش کو ختم کرنا ہے۔

اس شورش کو ایشیا کی طویل ترین شورش میں شمار کیا جاتا ہے جس میں اب تک تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

یہ معاہدہ اسی ماہ ملیشیا میں مذاکرات کی کامیابی کے بعد طے پایا ہے۔

فلپائن کی حکومت اور ملک کے سب سے بڑے مسلمان باغی گروہ ’مورو اسلامک لبریشن فرنٹ‘ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ان اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے جس کے تحت 2016 تک ملک کے جنوب میں ایک نیم خودمختار مسلمان اکثریتی علاقے کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ فلپائن بنیادی طور پر رومن کیتھولک ریاست ہے۔

معاہدے پر دستخط دونوں جانب کے اعلیٰ مذاکرات کاروں نے دارالحکومت منیلا میں صدارتی محل میں کیے اور اس موقع پر ملک کے صدر بنگنو اکوینو اور باغی گروہ کے سربراہ مراد ابراہیم بھی موجود تھے۔

دونوں رہنمائوں نے اس موقع پر تحائف کا تبادلہ بھی کیا۔ عمر کی ساٹھویں دہائی میں مراد ابراہیم مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے صدارتی محل میں قدم رکھا ہے۔

اس معاہدے کے طے پانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ملیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وہ لوگ اور رہنماء ہیں جو کہ کچھ کر دیکھانا چاہتے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بہتر ظرف کا مظاہرہ کریں۔ چار دہائیوں کے بعد امن اب ہماری پہنچ میں ہے۔‘

گذشتہ ہفتے معاہدے کی تفصیلات کا اعلان کرتے ہوئے صدر اکوینو کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں ابھی بھی مشکلات ہیں۔

معاہدہ طے پاتے وقت ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے ابھی کافی محنت کرنا ہوگی۔

پچھلے پندرہ سال میں کی جانے والی امن کوششیں تشدد کی نذر ہوتی رہی ہیں۔

دستخط کیے جانے والے مسودے کے تحت دونوں پارٹیوں نے اس سال کے آخر تک ایک تفصیلی معاہدے پر اتفاق کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔

امید کی جا رہی ہے یہ معاہدہ صدر اکونیو کی صدارت کے اختتام یعنی سنہ دو ہزار سولہ تک مکمل طور پر عمل میں آ جائے گا۔

گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر مسلمانوں نے منیلا میں اس معاہدے کی حمایت میں ایک ویجل کا بھی اہتمام کیا۔

اس نئے نیم خود مختار خطے کا نام مورو تنظیم کے توسط سے ’بانگسہ مورو‘ رکھا جائے گا۔ اس علاقے میں مسلمانوں کو ہسپانوی مورز کہہ کر پکارتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔