نوبیل انعام حاصل کرنے کی فیکٹری

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 05:27 GMT 10:27 PST

امریکہ کے کیا شاید دنیا کے کسی سکول میں اتنے نوبیل جیتنے والے طلبہ نہیں پڑھے جتنے اس سکول میں پڑھے

امریکی شہر نیو یارک میں واقع برونکس ہائی سکول آف سائنس ایک عام سکول معلوم ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے۔

یہ سکول نوبیل انعام جیتنے والوں کی ایک فیکٹری ہے۔ امریکہ کے کیا شاید دنیا کے کسی سکول میں اتنے نوبیل جیتنے والے طلبہ نہیں پڑھے جتنے اس سکول میں پڑھے۔

سنہ 1972 سے اس سکول سے فارغ التحصیل ہونے والے آٹھ طلبہ نے طبیعیات اور کیمیا میں نوبیل انعام حاصل کیے ہیں۔

اس سکول کے مرکزی دروازے پر ٹرافیاں نمائش کے لیے رکھی ہیں اور ایک پوسٹر ہے جس پر نوبیل انعام یافتہ طلبہ کی تصاویر ہیں۔ لیکن اس میں صرف ایک تصویر نہیں ہے اور وہ ہے رابرٹ ایف لیکووٹز کی جنہوں نےکیمیا کا 2012 کا نوبیل انعام حاصل کیا ہے۔

رابرٹ اس سکول میں پچاس کی دہائی میں پڑھتے تھے۔

اس سکول میں بھی نیو یارک کے دیگر سرکاری سکولوں کی طرح زیادہ تر طلبہ دوسرے ممالک سے آئے لوگوں کے بچے ہیں جو امریکہ ہی میں پیدا ہوئے۔

انہی طلبہ میں سترہ سالہ الیسا امینڈا ہیں جو قوت مدافعت پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ’میں اپنی تحقیق میں لوکیمیا میں پروٹین کے قوت مدافعت کے نظام پر اثرات پر تحقیق کر رہی ہوں۔‘

برونکس ہائی سکول کو حکومت کی جانب سے وہی مدد ملتی ہے جو فیگر سکولوں کو ملتی ہے۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ اس سکول میں سائنس کا ایک خاص پروگرام ہے۔

اس سکول میں طلبہ کو ایک استاد اور پروفیشنل لیبارٹری مہیا ہوتی ہے جہاں ہر وہ انجینیئرنگ، کمپیوٹر سائنس، سوشل سائنس اور حیاتیات پر تحقیق کرسکتے ہیں۔

"وہ کرو جس میں تم اچھے ہو اور دیگر لوگ اس کو مشکل سمجھتے ہوں۔"

نوبیل حاصل کرنے والے ڈیوڈ پلٹزر

سکول کے مینجمنٹ اسسٹنٹ ڈاکٹر جین ڈوناہو نے بی بی سی کو بتایا ’یہ طلبہ اپنے پراجیکٹس میں اصل تحقیق کرتے ہیں اور نئی دریافتیں کرتے ہیں اور کئی بار اپنی تحقیق شائنس جرنل میں بھی شائع کراتے ہیں۔‘

طبیعیات میں نوبیل حاصل کرنے والے ڈیوڈ پلٹزر نے سکول کے دورے پر سترہ سالہ ایئن کیپلن سے کہا ’وہ کرو جس میں تم اچھے ہو اور دیگر لوگ اس کو مشکل سمجھتے ہوں۔‘

کیپلن ایک کمپیوٹر ماڈل پر کام کر رہے ہیں جس سے یہ پیشین گوئی کرے گا کہ امریکی صدارتی اور نائب صدارتی مباحثے کون جیتے گا۔

لیکن اس سکول میں داخلہ لینے کے لیے صلاحیتیں درکار ہیں۔ پچھلے سال جن بچوں نے داخلے کا ٹیسٹ دیا ان میں صرف پانچ فیصد بچوں کا داخلہ ہوا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔