بوسنیا: رادون کرادچ کا جنگی جرائم سے انکار

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 18:07 GMT 23:07 PST
رادون کرادچ

کرادچ نے جنگ میں میڈیا کے کردار پر تنقید کی

جرائم کی عالمی عدالت میں جاری مقدمے میں سابق بوسنیائی سرب لیڈر رادون کرادچ نے کہا ہے کہ انہیں بوسنیا میں ہونے والے جنگی جرائم کی ذمہ داری کے الزام کے بجائے لوگوں کی تکالیف دور کرنے پر انعمات سے نوازنا چاہیے نیز وہ ایک متحمل مزاج انسان ہیں اور ہمیشہ قیامِ امن کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

رادون کرادچ تیرہ سال کی روپوشی کے بعد 2008 میں بلغراد سے گرفتار کیے گئے تھے۔ ان پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والے بدترین مظالم ڈھانے کا الزام ہے جن میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔ ان کی وحشیانہ مہم کا نقطۃ عروج سنہ پچانوے میں مشرقی بوسنیا میں سربرِنتزا کا واقعہ تھا جہاں سات ہزار مسلمان مرد و زن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کی قیادت میں بوسنیائی دارالحکومت سراجیوو کا چوالیس ماہ تک محاصرہ جاری رہا جس دوران بارہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

اپنا دفاع کرتے ہوئے کرادچ نے کہا کہ وہ ایک ’نرم مزاج آدمی ہیں اور دوسروں کے نظریوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جیت کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود کئی بار بوسنیائی سرب فوج کو روکنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے جنگ سے احتراز اور امن قائم کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کی اور عالمی قوانین کے پابند رہے۔ بقول کرادچ سربیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سرب قوم کے لیے نہایت پریشان کن اور خطرے کا باعث تھی ورنہ سربیا کی تاریخ میں نسلی تنازعات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے مزید کہا وہ اور نہ ان کے جاننے والوں میں سے کوئی یہ گمان بھی کر سکتا تھا کہ سربیا میں نسل کشی کی جائے گی۔

مسلمانوں سے خطرہ

"سربیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سرب قوم کے لیے نہایت پریشان کن اور خطرے کا باعث تھی ورنہ سربیا کی تاریخ میں نسلی تنازعت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔"

رادون کرادچ

جنگ میں میڈیاکے قردار کو اعترازکا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریس میں ان کے خلاف جھوٹ اورمبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کےمطابق جنگ کے دوران جانیں کھونے والوں کی تعداد حقیقت میں تین سے چار فیصد کم ہے اور وقت کیساتھ حقیقت خود عیاں ہو جائے گی۔

اس مقدمے میں 1994 میں سراجیوو مارکیٹ پر شیلنگ کی بات کی گئی تو کرادچ نے اسے مخالف عناصر کی انتہائی تکلیف دہ اورشرمناک حرکت کے طور پر پیش کیا اور اپنے دفاع کے لیے روسی نژاد کرنل اندرے ڈیمورینکو کو گواہ کے طور پر بلوایا۔

کرادچ کا کہنا ہے کہ کرنل ڈیمورینکو کی تحقیق کے مطابق جب 1995 میں دوسری بار سراجیوو مارکیٹ پر شیلنگ ہوئی تو اس کے ذمہ دار سرب نہیں تھے لیکن چونکہ یہ شہادت ان کے خلاف الزامات کی نفی کرتی ہے اس لیے عدالت اسے رد کر رہی ہے ۔ کرنل ڈیمورینکو 1995 سےاقوامِ متحدہ کی سراجیوو میں قیامِ امن کے لیے تعینات فوج کے چیف آف سٹاف تھے۔

ہیگ میں بی بی سی کی نامہ نگار عینہ حولیگن نے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی سننے کے لیے بوسنیا سے اس جنگ کا نشانہ بننے والےاور جان کھونے والوں کے لواحقین نے شرکت کی جو کرادچ کو اس ظلم اور بربریت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ کارروائی کے دوران کرادچ کی شہادت سن کر گیلری میں موجود اِن لوگوں کی تکلیف سے بھری آوازیں مسلسل سننے کو ملیں۔

امسال جون میں رادون کرادچ کے خلاف نسل کشی کے ایک الزام کو ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت نے مسترد کر دیا تھا لیکن باقی الزامات کو برقرار رکھا۔ کرادچ کے علاوہ سرب فوج کے سابق سربراہ راتکو ملادچ پر بھی اسی عدالت میں مقدمہ جاری ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔