’برطانیہ پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 10:45 GMT 15:45 PST

بحرین میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تھی

انسانی حقوق کی پامالیوں کے تعلق سے برطانوی حکومت پر مختلف ممالک کے ساتھ دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق اس کا ریکارڈ بہت اچھا ہے۔

برطانوی دارالعوام میں خارجہ امور سے متعلق کمیٹی نے اپنے موازنے میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے سبب برطانیہ نے یوکرین میں دو ہزار بارہ کی فٹبال چیمپیئن شپ کا تو بائیکاٹ کیا لیکن بحرین سے متعلق کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

کمیٹی کے مطابق بحرین نے مظاہرین کے ساتھ جو سخت رویہ اپنایا ہے اس کے سبب اسے ’تشویش ناک ممالک‘کی فہرست میں شامل کرنا چاہیے تھا۔

موسم گرما میں چیمپیئن شپ کے دوران برطانوی وزراء نے انگلینڈ کا میچ دیکھنے کے لیے یوکرین جانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کیونکہ اپوزیشن رہنما یولیا تائیموشیکوف کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

"جس نوعیت سے بحرین کے حکام نے دو ہزار گیارہ کے فروری اور مارچ میں مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اپنایا تھا اس حساب سے دو ہزار گیارہ کی انسانی حقوق اور جمہوریت سے متعلق رپورٹ میں بحرین کو تشویش ناک ممالک کی فہرست میں شامل کیا چانا چاہیے تھا۔"

اپریل میں بحرین میں جب فارمولا ون ریس منعقد ہونے والی تھی تب اس کے بائیکاٹ کے لیے بھی حکومت پر زور ڈالا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ مقابلہ مظاہروں کے سبب خطرناک بن سکتا ہے۔

لیکن وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ’بحرین شام نہیں ہے‘ اور وہاں اصلاحات کا عمل بھی جاری ہے۔

حالانکہ برطانوی حکومت کے بعض وزراء اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بحرین میں اصلاحات کا عمل بہت سست اور اس میں پیش رفت بہت کم ہوئی ہے۔

لیکن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں حکومت کے اس پالیسی میں اسقلال نظر نہیں آتا کہ اس نے بحرین کے گراں پری کے معاملے میں کھل کر کوئی موقف اختیار نہیں کیا لیکن یوکرین میں ہونے والی دو ہزار بارہ کی فٹبال چیمپیئن شپ کا بائیکاٹ کیا۔‘

کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ’جس نوعیت سے بحرین کے حکام نے دو ہزار گیارہ کے فروری اور مارچ میں مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اپنایا تھا اس حساب سے دو ہزار گیارہ کی انسانی حقوق اور جمہوریت سے متعلق رپورٹ میں بحرین کو تشویش ناک ممالک کی فہرست میں شامل کیا چانا چاہیے تھا۔‘

خارجہ امور سے متعلق حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ اور اس اعتراف کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق سے متعلق حکومت کا ریکارڈ بہتر ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنی اقدار کی پاسبانی نہیں کریں گے اس وقت تک دیرپا سکیورٹی اور خوشحالی نہیں حاصل کی جا سکتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔