نیویارک میں دھماکے کی سازش، ایک گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 21:29 GMT 02:29 PST

مین ہٹن کے علاقے میں واقع فیڈرل ریزرو کی عمارت میں امریکہ کا مرکزی بینک ہے

امریکی حکام نے نیویارک میں فیڈرل ریزرو بینک کی عمارت کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ قاضی محمد رضوان الاحسن نفیس کی گرفتاری ایف بی آئی کے ایک سٹنگ آپریشن کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق رضوان نفیس رواں برس کے آغاز میں امریکہ آئے تھے اور ان کا مقصد دہشتگردی کی ایک کارروائی کی منصوبہ بندی تھا۔

انہیں بدھ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے خیال میں ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے فیڈرل ریزرو کی عمارت تباہ کرنے والے تھے جبکہ وہ بم نقلی تھا۔

نیویارک میں مین ہٹن کے علاقے میں واقع فیڈرل ریزرو کی عمارت میں امریکہ کا مرکزی بینک ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق اس آپریشن کے دوران حملے کا کوئی خطرہ نہیں تھا اور رضوان نفیس ہمہ وقت ان کی زیرِ نگرانی تھے۔

رضوان نفیس پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرنے اور القاعدہ کو امدادی مواد فراہم رکنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔’

ایف بی آئی کو اس سازش کا علم اس وقت ہوا جب جنوری 2012 میں امریکہ آمد کے بعد انہوں نے اس مبینہ حملے کے لیے مدد کی تلاش کی اور اس دوران ان کا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا جو ایف بی آئی کا مخبر تھا۔

اس پر نفیس کی نگرانی شروع کر دی گئی اور پھر ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ نے انہیں بیس ایسے تھیلے فروخت کیے جس میں نفیس کے خیال میں پچاس پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد تھا۔

اس کے بعد نفیس نے بم بنانے کا دیگر سامان خریدا اور بم بنانے کی کوشش کی۔

نفیس نے مخبر سے بات چیت میں اعلیٰ امریکی اہلکار کے علاوہ نیویارک سٹاک ایکسچینج کو بھی بطور ہدف چننے کی بات کی۔

اپنے بیان میں جس کا مقصد دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوتا نفیس نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کے نزدیک امریکہ کو تباہ کرنے کا سب سے کارگر طریقہ امریکی معیشت کو نشانہ بنانا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔