سعودی عرب: مذہبی پولیس میں خواتین

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 15:56 GMT 20:56 PST

سودی عرب کی مذہبی پولیس ملک میں اسلامی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بناتی ہے

سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فورس میں مزید خواتین کو شامل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

سعودی گیزٹ اخبار سے بات کرتے ہوئے مذہبی پولیس کے سربراہ عبدالطیف عبدالعزیز الشیخ کا کہنا تھا کہ ان کو امید ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک مہم کا آغاز کیا جائے گا۔

سودی عرب کی مذہبی پولیس ملک میں اسلامی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بناتی ہے جس میں مناسب لباس پہننے اور نماز کے اوقات بھی شامل ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں عبدالطیف عبدالعزیز الشیخ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی کریں گے۔

مذہبی پولیس کی زیادتیوں کے باعث عوام کے بڑھتے ہوئے غم و غصے پر قابو پانے کے لیے الشیخ نے جنوری میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

حال ہی میں ایک موبائل فون کلپ منظر عام پر آیا تھا جس میں مذہبی پولیس کا ایک اہلکار ایک خاتون کو ان کے میک اپ کے باعث شاپنگ مال سے جانے کو کہہ رہا ہے۔

مذہبی پولیس میں خواتین کی شمولیت سے اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ملتا کہ ان قوانین میں کوئی نرمی ہوگی لیکن اس سے عوامی مقامات پر خواتین کی تعداد ضرور بڑھ جائے گی۔

سعودی عرب ایک قدامت پسند ملک ہے لیکن حال ہی میں ملک کے بادشاہ عبدا اللہ نے سیاسی اور معاشی اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔

ستمبر 2011 میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ خواتین کو ووٹ دینے اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔