شام:’اٹھارہ مہینوں میں اٹھائیس ہزار لوگ لاپتہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST
ایک شامی شہری کی تصویر

شام میں تقریبا گزشتہ ڈیڑھ برس قبل حکومت مخالف تحریک شروع ہوئی تھی جس کے بعد وہاں اب جنگ کے حالات ہیں

شام میں سرکردہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فوج اور مسلح باغیوں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے اٹھائیس ہزار افراد لاپتہ ہیں۔

ان اداروں کا دعویٰ ہے کہ شام میں حکومت مخالف تحریک شروع ہونے کے بعد سے جن لوگوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے، ان میں سے اٹھارہ ہزار کے نام ان کے پاس ہیں۔

انٹرنٹ کے ذریعے سرکردہ انسانی حقوق کی تنظیم ’ آواز‘ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دہشت کی جو مہم چلی ہے اس سے کوئی بھی شہری محفوظ نہیں ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں گزشتہ اٹھارہ مہینوں سے جاری جمہوریت نواز تحریک کو کچلنے کے لیے حکومت نے بقول ان کے دہشت کا جو دور شروع کیا ہے اس میں کوئی محفوظ نہیں ہے۔

’آواز‘ کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل کو لاپتہ لوگوں کے بارے میں دستاویزات فراہم کرے گا۔

شام کی حکومت نے ان الزامات پر فی الحال کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن ماضی میں وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

’آواز‘ کا کہنا ہے کہ اس نے غائب ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے بات کرکے شواہد جمع کیے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر، بیٹوں اور بیٹیوں کو حکومت نواز فورسز زبردستی اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔

شام کی فوٹو

شام میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے وہاں کی گلیوں سے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے

گواہی دینے والوں میں فائزہ الصری بھی شامل ہیں جن کا چھبیس سالہ بیٹا فروری سے لاپتہ ہے۔ انہوں نے آخری مرتبہ جس ٹیلی فون نمبر سے اپنے گھر بات کی تھی وہ ملٹری سکیورٹی کا نمبر تھا۔

جب ان کے گھر والوں نے ان کے فون پر کال کیا، تو کسی نے انہیں بتایا کہ ان کی موت ہو چکی ہے لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کر پائے ہیں۔

فائزہ المصری نے ’آواز‘ کو بتایا کہ ’وہ ہمیں یا اپنی اہلیہ کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جاسکتے تھے، ان کے یہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہونے والی ہے۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا کیا ہوا۔‘

باسٹھ سالہ حسین عیسو کے بھائی کا کہنا تھا کہ انہیں سکیورٹی فورسز انہیں ہساکا سے اٹھا کر لے گئی تھیں جہاں وہ دیگر کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سےان کے بھائی کو مختلف سکیورٹی اداروں کے حوالے کیا جاتا رہا ہے اور ان کی طبعیت کافی خراب ہے۔

شام کے سرحد کے قریب ترکی کے شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینولڈز کا کہنا ہے کہ شام میں جب تک تشدد ختم نہیں ہوجاتا تب تک غائب ہونے والے افراد کی صحیح تعداد کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہوگا لیکن ان اعدادوشمار سے شام کے کشیدہ حالات کے بارے میں اندازہ ہوجاتا ہے۔

وہیں ’آواز‘ کے سربراہ الیس جے کا کہنا ہے کہ شامی شہریوں کو ’سیکورٹی فورسز اور مسلح جنگجو گلیوں سے لوگوں کو اغواء کررہے ہیں اور انہیں ٹارچر سیلز میں لے جایا جارہا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’چاہے بازار میں کھانے پینے کا سامان خریدتی ہوئی ایک خاتون ہو چاہے کھیت جاتا ہوا کسان، شام میں کوئی محفوظ نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا ہےکہ حکومت اس طرح لوگوں کو خاموش کرنے کی کوشش کررہی ہے اور گمشدگی کے ہر ایک معاملے کی تفتیش ہونی چاہیے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے دوسرے اداروں نے بھی اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔

سیرین نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس سے وابستہ فضل عبدالغنی نے بھی کہا کہ ان کے خیال میں اب تک اٹھائیس ہزار لوگ غائب ہو چکے ہیں لیکن ایک دیگر ادارے ساوسیا کے مطابق یہ تعداد اسّی ہزار تک ہو سکتی ہے۔

شام کے شہر ہساکا میں انسانی حقوق کے وکیل محمد خلیل کا کہنا ہے کہ اغوا کے ان واقعات کے پیچھے دو وجوہات ہیں۔ ایک تو باغیوں کا صفایا کرنا اور عام لوگوں کو اتنا خوفزدہ کرنا کہ وہ حکومت کی مخالفت نہ کریں۔

آواز نے انسانی حقوق کے وکیلوں اور مقامی کارکنوں کی مدد سے یہ معلومات یکجا کی ہے۔ تنظیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر کیس کی تصدیق کو ممکن نہیں ہے لیکن ان میں سےکسی بھی شخص کو باقاعدہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تشدد میں اٹھارہ ہزار لوگ مارے گئے ہیں جبکہ پونے دو لاکھ ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ یو این کے مطابق پچیس لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک میں اپوزیشن گروپوں کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔