’مکمل بحالی کے آپریشن سے پہلے طویل آرام ضروری‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 12:27 GMT 17:27 PST

ملالہ بہتر مگر خطرے سے باہر نہیں

برمنگھم میں کوئین الزبتھ ہپستال کا کہنا ہے کہ ملالہ روبہ صحت ہیں لیکن خطرے سے باہر نہیں۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

برطانیہ کے شہر برمنگھم کے کوین الیزبتھ ہسپتال کے ڈاکٹر ڈیو راسر کا کہنا ہے طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسفزئی کو مکمل بحالی کے آپریشن سے پہلے طویل آرام کی ضرورت ہے۔ سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ہسپتال نے کہا ہے کہ ملالہ کی حالت جمعہ جیسی ہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ملالہ کی طبیعت مستحکم اور سنبھلی ہوئی ہے۔

جمعہ کو ہسپتال نے کہا تھا کہ ملالہ یوسفزئی لکھ کر بات کر رہی ہیں اور سہارا لے کر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئی ہیں۔

برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے مطابق ملالہ نو اکتوبر کو سر میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھیں اور اب وہ علاج کے بعد پہلی مرتبہ لکھ کر بات کرنے اور سہارے سے کھڑے ہونے کے قابل ہو گئی ہیں۔

ابتدائی بیانات کی بہ نسبت جمعہ کو ڈاکٹر راسر نے ملالہ کی طبیعت اور زخم کے بارے میں زیادہ تفصیلی بات کی تھی۔ شروع میں وہ کہتے رہے کہ وہ ملالہ یوسفزئی کی اجازت کے بغیر یہ معلومات جاری نہیں کر سکتے۔

تاہم جمعہ کو ڈاکٹر روسر نے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ’میں آپ کو پہلے کی بہ نسبت بہت کچھ بتانے کے قابل ہوں، اب ملالہ پہلے سے بہتر ہیں اور اس بات سے متفق ہیں کہ آپ کو ان کی صحت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے انہیں نہ صرف اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ ان کی شدید خواہش ہے کہ ایسا کیا جائے۔‘

ڈاکٹر روسر کے مطابق’میرے خیال میں گزشتہ پریس کانفرنسوں کے مقابلے میں آپ کے لیے زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہوں۔میں آپ کو یہ بتاسکتا ہوں کہ گولی جہاں جہاں سے گزری ہے ان زخموں میں انفیکشن کی علامتیں ابھی برقرار ہیں اور یہ ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے اور میں اب بھی وہی الفاظ کہوں گا جو میں نے منگل کو کہے تھے کہ وہ ابھی خطرے سے پوری طرح باہر نہیں ہیں۔‘

ملالہ کو پاکستان میں آپریشن کے بعد بہتر علاج کے لیے برمنگھم کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا

ڈاکٹر روسر نے مزید بتایا کہ ’وہ اب بھی مصنوعی تنفس پر ہیں کیوں کہ ان کی سانس کی نالی میں گولی کے زخم کی وجہ سے سوزش ہے۔ ان کی سانس کی نالی کو محفوظ رکھنے کے لیے گلے کے ذریعے ٹیوب لگائی گئی ہے۔ اس ٹیوب کی وجہ سے وہ بات نہیں کر پا رہیں اور ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب یہ ٹیوب ہٹائی جائے گی تو بات نہیں کر پائیں گی۔ اگلے چند دنوں میں ان کی یہ ٹیوب ہٹالی جائے گی۔‘

ملالہ کی صحت کے بارے میں پاکستان بھر اور پاکستان کے باہر بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جس کا اندازہ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں سے بہ خوبی کیا جا سکتا ہے۔

ملالہ یوسفزئی کے ہمراہ ان کی دو دیگر ساتھی بھی طالبان کے حملے میں زخمی ہوئیں تھیں۔ ان کے زخمیوں کی نوعیت اتنی سنگین نہیں تھی جتنی کہ ملالہ یوسفزئی کی تھی۔

ملالہ کو پاکستان میں آپریشن کے بعد بہتر علاج کے لیے برمنگھم کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

برمنگھم میں بسنے والے پاکستانیوں میں بھی ملالہ کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے اور بہت سے پاکستانی ملالہ سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ہسپتال کی طرف سے خصوصی پر تیار کیے گئی ویب سائٹ پر پیغامات لکھتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔