چین عالمی طاقت کے طور پر کیسا ہو گا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 15:32 GMT 20:32 PST

چین ایک عالمی طاقت بننے کے راستے پر گامزن ہے لیکن یہ راستہ اکثریت کی توقع کے مطابق نہیں ہے۔

بیجنگ میں ان دنوں گرما گرم، مگر مثبت بحث جاری ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ مغربی طرز کی جمہوریت کے حوالے سے نہ ہو لیکن اب یہاں ہونے والی یہ دنیا کی ایک اہم اور دلچسپ بحث ہے۔

ایک سال پہلے میں نے نوجوان چینی سفارت کاروں سے خطاب کیا تھا تو اُس وقت میں بلکل واضح تھا کہ ایک ایسی دلفریب بحث جاری ہے کہ چین کے عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے راستے کے لیے کس قسم کی خارجہ پالیسی ہونی چاہیے۔

چین سپر طاقت کے طور پر کیسا ہو گا؟ شاید آپ کے خیال میں یہ پہلے سے ہی ایک سپر طاقت ہے تو ایسا نہیں ہے۔

چینی فوج کا امریکی فوج سے موزانہ کرنا درست نہیں ہے۔ اس وقت امریکہ کے پاس گیارہ طیارہ بردار بحری جہاز ہیں جبکہ چین نے اس قسم کے پہلے بحری جہاز کو گزشتہ ماہ ہی بحریہ میں شامل کیا ہے۔ جبکہ عالمی سیاست میں اس کا اثر ورسوخ بہت کم ہے۔

صرف معاشی میدان میں چین کی قوت ایک عالمی طاقت کے طور پر سمجھ آتی ہے۔ اس وقت چین کی معیشت کا حجم امریکی معیشت کے مقابلے میں آدھا ہے اور ایک اندازے کے مطابق چینی معیشت سال دو ہزار اٹھارہ تک امریکی معیشت پر برتری حاصل کر لے گی لیکن ٹیکنالوجی اور زندگی کا معیار امریکہ سے بہت پیچھے ہے۔

چین عالمی طاقت بننے کی صورت میں امریکہ جیسا ہوگا تو یہ سوچ بدتر ہے کیونکہ چین ایک جمہوری ملک نہیں ہے اور یہاں پر کیمونسٹ طرز حکمرانی ہے اور لوگ اس کو پسند نہیں کرتے۔

حقیقت میں ہمیں چین سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اس کا رویہ امریکہ کی طرح گا، یہ بہت مختلف ہو گا اور نہ ہی ہم اس خدشے کو مان سکتے ہیں کہ یہ غیر ضروری طور پر بدتر ہو گا۔

یہ کس طرح سے مختلف ہو گا؟ کیونکہ اس کی تاریخ مختلف ہے چین کی افریقہ میں تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑھتی ہوئی دلچپسی کے بارے میں اکثر مضامین میں’ ایک نئے نو آبادیاتی‘ نظام کے بارے میں بات ہوتی ہے۔

اس حوالے سے تاریخ کو مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ چین نے ماضی میں بیرونی دنیا میں کسی علاقے کو اپنی کالونی نہیں بنایا ہے اور بیرونی دنیا پر حمکمرانی مغربی خاصیت رہی ہے اور اس کے علاوہ صرف جاپان نے کچھ عرصے تک ایسا کیا ہے۔

چین جنوب مشرقی ایشیا کو کالونی بنا سکتا تھا۔ مثال کے طور پر پندرہویں صدی میں، اس کے پاس یورپ کے مقابلے میں ایک بہت بڑا بحری بیڑا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن اس بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ چین نے اپنے ہمسایوں کو نظر انداز کر دیا ہے، اس نے ترقی اور وسیع رقبے کی وجہ سے کئی صدیوں تک ہمسایہ ممالک پر اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھا۔

لیکن چینی اپنے گھر میں رہنا چاہتے ہیں، وہ ’مڈل کنگڈم‘ چین کے پرانے نام پر یقین رکھتے ہیں، اس کا ادبی ترجمہ ہو گا کہ ہم زمین کے مرکز میں ہیں اور انسانی تہذیب کی اعلیٰ ترین قسم ہیں۔

چین کو غیر معمولی حد تک اپنی تاریخی کامیابیوں پر فخر ہے اور ان کے خیال میں وہ اب تک کی سب سے اعلیٰ ترین تہذیب ہیں۔

اس کے ساتھ یورپ اور چین میں چند مشترک خصوصیت ہیں کہ یہ دونوں اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثال ہیں، لیکن اس پر عمل بلکل مختلف طریقوں سے کرتے ہی۔ یورپ اور بعد میں امریکہ کے نزدیک دنیا بھر میں اپنی طاقت کو بڑھانا ہے خاص طور پر انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے نصف تک دنیا کے ایک بڑے حصے پر یورپ کی حکمرانی تھی۔

یورپی دور سے اپنے طریقے سے حکمرانی کرتے، دوسروں پر اپنی زبان، تعلیم، مذہب اور دیگر چیزیں مسلط کرتے ہیں۔

چین کے زہینگ ژی نے سنہ چودہ سو پانچ سے چودہ سو تینتیس تک چین کے مشرقی اور جنوبی سمندروں، بحرہ ہند اور مشرقی افریقہ تک سمندری سفر کیے لیکن کوئی مستقل نشانی نہیں چھوڑی، اس کا مقصد ’مڈل کنگڈم‘ کی عظمت کا مظاہرہ کرنا تھا نہ کہ فتح کرنے کی خواہش۔

اس کے برعکس فرانس اور برطانیہ اپنی کالونیوں کے ہیروز کا جشن مناتے ہیں اور ہمارے شہروں اور گلیوں کے نام ان سے منسوب اور وہاں ان کے مجسمے نظر آتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور وجہ سے چینی اپنے ملک میں رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا ملک بہت بڑا ہے اور اس پر حمکرانی کرنا بہت مشکل کام ہے۔ حکمرانوں کو کئی نسلوں تک خاصی پریشانی رہی ہے کہ اس پر عملداری کس طرح قائم کی جائے اور مستحکم کیسے رکھا جائے اور اقتدار میں رہا جائے اور یہ صورتحال آج بھی سچ ہے۔

لیکن اس کے ساتھ یہ توقع نہ کریں کہ چینی بڑی طاقت کے طور پر ابھرنے کے بارے میں بے صبر ہیں۔ سنہ انیس سو بہتر میں ہنری کیسنجر نے چینی صدر چوین لائی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا فرانسیسی انقلاب کے بارے میں کیا خیال ہے، اس پر چینیوں نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ’اس کے بارے میں جاننا بہت جلد ہے۔‘

یورپ کے برعکس چینیوں کی وقت کے بارے میں سوچ بہت مختلف ہے۔ جہاں امریکی سمجھتے ہیں کہ وقت بہت کم ہے وہیں چینی سوچتے ہیں کہ بہت زیادہ ہے۔ ان کے خیال میں ایک صدی کچھ بھی نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔