بیروت دھماکہ: لبنانی کابینہ کا ہنگامی اجلاس

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 14:06 GMT 19:06 PST
بیروت دھماکہ

بیروت کے دھماکے میں انٹیلیجنس کے سربراہ سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جمعہ کو بیروت میں ہونے والے ایک زبردست دھماکے کے بعد لبنانی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔

دھماکے میں انٹیلیجنس کے سربراہ سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس دھماکے کے بعد حزاب اختلاف کی جانب سے لبنانی وزیرِاعظم نجیب میکاتی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حزب اختلاف کے رہنما سعد الحریری اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے شام کا ہاتھ ہے۔

اس حملے کے بعد سعد الحریری کے حامی سڑکوں پر ٹائیر جلا رہے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔

سیاسی رہنما ولید جمبلات نے بھی صدر بشار الاسد پر حملہ کرانے کا الزام لگایا ہے۔

امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔

کار بم دھماکہ جمعہ کی شام عیسائی اکثریتی علاقے اشرفیہ کی ایک پرہجوم سڑک پر ہوا۔یہ حملہ عیسائیوں کے اکثریتی علاقے اشرافیہ کی ایک انتہائی مصروف سڑک پر سعد الحریری کے اس اتحاد کے صدر دفتر سے محض دو سو میٹر دور ہوا ہے، جو 14 مارچ کو تشکیل پایا تھا۔

لبنان میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت بیروت میں ایک طاقتور دھماکے میں ملک کی داخلی انٹیلیجنس کے سربراہ وسام الحسن سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ وسام الحسن لبنان کے اپوزیشن رہنما سعد الحریری کے قریب ساتھی تھے اور سعد الحریری لبنان کے ہمسایہ ملک شام کی حکومت کے ناقد ہیں۔

اس کے علاوہ وسام الحسن نے 2005 میں ہونے والے اس حملے کی تحقیقات کی تھیں جن میں سعد الحریری کے والد رفیق الحریری ہلاک ہوئے تھے۔

وسام الحریری نے اس حملے کا ذمے دار دمشق کو قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔