ابراہیمی کی شامی صدر بشارالاسد سے ملاقات

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 16:09 GMT 21:09 PST
اخضر ابراہیم اور بشار الاسد

اخضر ابراہیمی اور صدر بشار الاسد نے ملاقات کی ہے

شام کے لیے بین الاقوامی ایلچی اخضر ابراہیمی نے شامی صدر بشار الاسد سے ملاقات کی ہے لیکن انہوں نے اس ملاقات کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا ہے۔

البتہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدر بشار الاسد سے آئندہ ہفتے عید الاضحیٰ کے موقع پر تین دن کی فائربندی کی تجویز پر بات ہوئی ہے اور یہ کہ وہ اب شامی حکومت کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حزب اختلاف کے بعض اراکین جن سے ان کی ملاقات ہوئی ہے، فائربندی کے لیے تیار ہیں لیکن صرف اسی صورت میں جب شامی حکومت بھی اس کا وعدہ کرے۔

شام میں حکومت اور باغیوں کے درمیان اس سال اپریل میں بھی فائربندی کا معاہدہ ہوا تھا مگر وہ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکا تھا۔

دوسری طرف دمشق کے مضافات میں عیسائی آبادی میں ایک دھماکہ ہوا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ دھماکہ ایک تھانے کے باہر ہوا جس میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے۔واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔

شام کی خودمختاری۔۔

"شام میں جاری بحران کے سیاسی خاتمے کے لیے وہ کسی بھی نیک کوشش کا خیر مقدم کرتے ہیں بشرطیکہ ایسا کرتے ہوئے شام کی خودمختاری کا خیال رکھا گیا ہو اور اس بات کابھی خیال کیا گیا ہو کے شام کے بحران کے خاتمے میں کوئی بیرونی ملک مداخلت نہ کرے۔"

بشار الاسد

بات چیت کے بعد صدر بشارالاسد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’شام میں جاری بحران کے سیاسی خاتمے کے لیے وہ کسی بھی نیک کوشش کا خیر مقدم کرتے ہیں بشرطیکہ ایسا کرتے ہوئے شام کی خودمختاری کا خیال رکھا گیا ہو اور اس بات کا بھی خیال کیا گیا ہو کہ شام کے بحران کے خاتمے میں کوئی بیرونی ملک مداخلت نہ کرے۔‘

اس سے قبل سنیچر کو دمشق اور حلب میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصل ہوئیں تھیں۔

اطلاعات کے مطابق مرات النعمان علاقے میں زبردست جھڑپیں ہوئیں۔

واضح رہے کہ شام کے مرات النعمان علاقے پر باغیوں کا قبضہ ہے اور یہ علاقہ دمشق اور حلب کے درمیان فوجی سپلائی کے اعتبار سے اہم ہے۔

انٹرنٹ پر نشر کیے جانے والے ایک ویڈیو میں ایک باغی گروپ نے کہا ہےکہ اگر حکومت ان کی بعض شرائط مان لیتی ہے تو وہ عید کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ اس بارے میں دیگر باغی گروپوں کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔