سیاستدان احتیاط برتیں: لبنانی فوج کا انتباہ

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 17:40 GMT 22:40 PST

اتوار کو وسام الحسن کو رفیق الحریری کی قبر کے ساتھ ہی سپردِ خاک کیا گیا

لبنان کے انٹیلیجنس کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی غیر معمولی کشیدگی کے بعد لبنان کی فوج نے سیاستدانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔

لبنان کے انٹیلیجنس سربراہ وسام کی الحسن کی ہلاکت کے بعد لبنان میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ فوج نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے لیکن سیاستدانوں کو کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور خیالات کے اظہار کرتے ہوئے احتیاط کریں۔

وسام الحسن تین دن قبل ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ان کی تدفین کے بعد سب سے زیادہ جھڑپیں طرابلس میں ہوئیں جہاں تین افراد ہلاک بھی ہوئے۔

اس موقع پر مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وزیرِ اعظم میکاتی اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے داخلی انٹیلیجنس کے سربراہ کی ہلاکت کے واقعے کی تفتیش میں لبنان حکومت کی مدد کرے گا۔

امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میکاتی اور امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کیا گیا۔

اتوار کو وسام الحسن کے جنازے کے بعد دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ مظاہروں کے دوران سڑکیں بلاک کی گئیں اور بشار الاسد اور لبنان حکومت میں ان کے اتحادیوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

اتوار کے روز وسام الحسن کے جنازے کے بعد دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے

حزبِ مخالف کے اراکین اس حملے کے لیے شامی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ لبنان میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ہمسایہ ملک شام میں جاری کشیدگی ملک میں فسادات کا باعث بن جائے گی۔

لبنان حکومت کا ایک بڑا حصہ شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ سینتالیس سالہ وسام الحسن شام مخالف چودہ مارچ نامی تحریک اور الحریری خاندان کے قریب مانے جاتے تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے سابق وزیرِاعظم رفیق الحریری کے قتل کی تفتیش میں شام کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔