امریکہ وسام قتل کی تفتیش میں مدد کرے گا

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 04:52 GMT 09:52 PST

اتوار کو وسام الحسن کو رفیق الحریری کی قبر کے ساتھ ہی سپردِ خاک کیا گیا

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے داخلی انٹلیجنس کے سربراہ وسام الحسن کی جمعہ کو ہونے والے کار بم دھماکے میں ہلاکت کے واقعے کی تفتیش میں لبنان حکومت کی مدد کرئے گا۔

امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ لبنانی وزیرِ اعظم نجیب میکاتی اور امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کے درمیان ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کیا گیا۔

ادھر دوسری جانب اتوار کے روز وسام الحسن کے جنازے کے بعد دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہروں کے دوران سڑکیں بلاک کیں گئیں اور بشار الاسد اور لبنان حکومت میں ان کے اتحادیوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اس موقع پر مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وزیرِ اعظم میکاتی اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اس کے علاوہ گذشتہ شب ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں سے مزید کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

اتوار کے روز وسام الحسن کے جنازے کے بعد دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے

حزبِ مخالف کے اراکین اس حملے کے لیے شامی حکومت کو ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں۔ لبنان میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ہمسایہ ملک شام میں جاری کشیدگی ملک میں فسادات کا باعث بن جائے گی۔

لبنان حکومت کا ایک بڑا حصہ شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

سنتالیس سالہ وسام الحسن شام مخالف چودہ مارچ نامی تحریک اور الحریری خاندان کے قریب مانے جاتے تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے سابق وزیرِاعظم رفیق الحریری کے قتل کی تفتیش میں شام کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے ایک سابق وزیر کو شام کی مالی امداد سے لبنان میں بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا۔

سنہ دو ہزار پانچ میں انتیس سال کے بعد شامی افواج لبنان سے رفیق الحریری کی ہلاکت کے موقع پر واپس چلی گئیں تھیں۔

اتوار کو وسام الحسن کو رفیق الحریری کی قبر کے ساتھ ہی سپردِ خاک کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سنیچر کو دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں لبنان میں ایک دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

دھماکے کے پیش نظر سنیچر کو لبنان کی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں ملک کی داخلہ سیکورٹی پر بات چیت ہوئی۔

"لبنان کی سیاسی جماعتیں شدت پسندی کے اس حملے سے مشتعل نہ ہوں"

اقوام متحدہ کے جنرل سیکٹری بان کی مون

اس اجلاس میں لبنان کے وزير اعظم نجیب میکاتی نے اپنے استعفیٰ کی پیش کش کی تھی لیکن صدر نے ان سے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے کہا۔

نجیب میکاتی نے کہا ہے کہ انہوں نے ملک کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشکل کے اس وقت میں ملک کو متحدہ اور محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں ملک کی داخلی انٹیلیجنس کے سربراہ وسام الحسن سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

وزیر اعظم میکاتی کا کہنا ہے کہ وہ دھماکے کرنے والے افراد کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان دھماکوں کے ذمہ داروں کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

اقوام متحدہ اور اس کے سیکورٹی کونسل کے ساتھ ساتھ لبنان کے سبھی سیاسی جماعتوں نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور شام مخالف سیاستدانوں نے اس دھماکے کا الزام شام پر لگایا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکٹری بان کی مون نے بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’لبنان کی سیاسی جماعتیں شدت پسندی کے اس حملے سے مشتعل نہ ہوں‘۔

نجیب میکاتی نے کہا ہے کہ انہوں نے ملک کے مفاد کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا فیصلہ کیا

وہیں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرن ایشٹن نے لبنان کے عوام سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اس حملے سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ ابھی ایسے عناصر موجود ہے جو لبنان کے استحکام کو دھچکا پہنچانا چاہتے ہیں۔

بیروت کے جس علاقے اشرفی ضلع میں یہ دھماکہ ہوا تھا وہاں کے باشندوں نے کہا ہے کہ سیکورٹی کی کمی کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

ایک شہری راعنا شلا ہوب کا کہنا تھا ’ایک رہائشی علاقے میں اس نوعیت کا دھماکہ خیز مواد رکھنا بے حد خوفناک بات ہے۔ ہم سب صدمے کی حالت میں ہیں لبنان میں حالات بے حد خراب ہیں۔ نہ کوئی سیکورٹی ہے۔ نہ حکومت ہے۔ ہم ہر روز مصیبت جھیل رہے ہیں‘۔

وہیں ایک دیگر شہری طارق زازا کا کہنا تھا ’لبنان مستحکم نہیں ہے اور ملک ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جو سب کو جوڑ کر رکھ سکے۔ یہ خوفناک صورتحال ہے۔‘

واضح رہے کہ جمعہ کو ہونے والے دھماکے کو لبنان کے دارلحکومت میں گذشتہ چار برس میں ہونے والے سب سے زیادہ طاقتور بم دھماکہ مانا جارہا ہے، اس دھماکے میں کئی عمارتوں کی بالکنیاں اڑ گئیں اور کئی کاروں کو آگ لگ گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔