امریکہ: تیسرا اور آخری صدارتی مباحثہ

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 11:01 GMT 16:01 PST
اوباما - رومنی صدارتی مباحثہ

صدر اوباما اور رومنی کو رائے عامہ کے جائزے میں برابری حاصل ہے

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں تیسرا اور آخری صدارتی مباحثہ فلوریڈا کے شہر بوکا ریٹن میں ہو رہا جو کہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ مباحثہ امریکہ میں سوموار کی شام میں ہو رہا ہے جو ایشیاء میں منگل کی صبح کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ مباحثہ موجودہ امریکی صدر براک اوباما اور ریپبلکن جماعت کے حریف صدارتی امیدوار مٹ رومنی کے درمیان ہو رہا ہے۔

پہلے مباحثے میں اگرچہ میدان رومنی کے ہاتھ رہا تھا لیکن نیویارک میں ہونے والے دوسرے مباحثے میں صدر براک اوباما کے جارحانہ انداز نے انہیں بظاہر سبقت فراہم کی تھی۔

تیسرا مباحثہ جوکہ فلوریڈا کے پام بيچ شہر بوکا ریٹن کی شاہراہ پر ہو رہا ہے وہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دونوں کے پاس یہ آخری موقعہ ہے۔

ساری دنیا کی نظر اس تیسرے مباحثے پر اس لیے بھی ہے کہ اس میں دونوں امیدوار امریکہ کی خارجہ پالیسی پر اپنا موقف بیان کریں گے۔

بی بی سی کے مارک مارڈل نے لکھا ہے کہ بوکا ریٹن کی شاہراہ پر کئی بڑے بڑے بل بورڈ لگے ہیں جس میں صدر اوباما کو ایک ایسے شخص کے سامنے جھکا ہوا دکھایا گیا ہے جو عربی لباس میں ہے۔

یہ تو واضح نہیں ہو سکا کہ یہ بل بورڈ کس نے لگایا ہے لیکن رومنی کی صدارتی مہم میں صدر اوباما پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح پر امریکہ کو کمزور بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں امیدوار اس تیسرے مباحثے میں برتری حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے اور یہ مباحثہ دوسرے دور سے بھی زیادہ جارحانہ ہوگا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی اس مرحلے پر اپنی معیشت کے بارے میں زیادہ متفکر ہوں گے۔

بہر حال تازہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں کانٹے کا مقابلہ ہے اور اس مباحثے میں جسے بھی برتری ملتی ہے وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔

کہنے کے لیے۔۔۔

" اوباما کے پاس کہنے کے اسامہ بن لادن کی موت اور القاعدہ کو پسپا کرنے دعوی ہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے بش عہد کے بعد امریکہ کی شبیہ بنائی ہے اور دو جنگوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے"

اس مرحلے پر کسی قسم کی بھی ہچکچاہٹ اور ابہام کافی اثر ڈال سکتی ہے۔

این بی سی وال سٹریٹ جرنل کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق دونوں امیدوار مٹ رومنی اور بارک اوباما کے حق میں سینتالیس-سینتالیس فیصد لوگ ہیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ اس مرحلے میں صدر براک اوباما کو سبقت حاصل رہے گی کیونکہ معاملہ خارجہ امور اور اس کی پالیسی کا ہے اور صدر اوباما بہر حال ملک کے صدر ہیں۔

صدر اوباما کو تقریباً چار سال تک صدر کے عہدے پر رہنے کی وجہ سے خارجہ امور کا کافی تجربہ ہے۔

صدراتی امیداوار کی حیثیت سے مٹ رومنی کا پہلا ہی غیر ملکی دورہ ایک طرح سے کافی مایوس کن رہا تھا اور ان کی خارجہ پالیسی بہت اچھی نہیں کہی گئی۔

لیکن ان کی مضبوط امریکی قیادت کی بات ان کے حامیوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے کیونکہ انہوں نے صدر اوباما پر کمزور قیادت کا الزام لگایا ہے۔

دوسری جانب اوباما کے پاس کہنے کے لیے اسامہ بن لادن کی موت اور القاعدہ کو پسپا کرنے کا دعویٰ ہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نےسابق صدر بش عہد کے بعد امریکہ کا امیج یا ساکھ بنائی ہے اور دو جنگوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔

واضح رہے کہ نیویارک کے دوسرے مرحلے کے مباحثے کے بعد سیاسی تجزیہ نگاروں نے صدر اوباما کی برتری کی بات کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔