قطر کے امیر کا غزا کا پہلا دورہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 اکتوبر 2012 ,‭ 00:56 GMT 05:56 PST

اسرائیل قطر کے امیر کے غزا کے دورے پر سخت ناراض ہے

قطر کے امیر نے غزا کے اپنے پہلے دورے کے دوران عربوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

شیخ حماد بن خلیفہ آل ثانی نے اسلامی گروپ حماس اور فلسطین گروپ فتح پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات دور کریں۔

قطر کے امیر نے غزا میں اسرائیلی حملے سے ہونے والی تباہ کاری کے بعد تعمیر نو کے لیے چالیس کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا۔

اسرائیل جو حماس کو ایک دہشت گرد قرار دیتا ہے کا قطر کے امیر کے دورۂ غزا پر کہنا تھا کہ قطر کے امیر نے امن کے عمل کو بس کے نیچے دھکیل دیا ہے۔

حماس کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر کے دورے نے اسرائیل کی طرف سے غزا کے اقتصادی اور سیاسی بائیکاٹ کو توڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر کے امیر نے بتایا دیا ہے کہ غزا اکیلا نہیں ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی قطر کے امیر کے دورے غزا پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ایک ہفتے قبل قطر کے امیر کو فون پر کہا تھا کہ وہ ہی بین الاقوامی طور پر فسلطینیوں کے واحد تسلیم شدہ رہنما ہیں۔

حماس کے شام اور ایران سے تعلقات میں سردی مہری آجانے کے بعد قطر اب اس کا سب سے بڑا حمائتی بن گیا ہے۔

قطر کے امیر جب مصر کی سرحد پر رفا کے راستے غزا میں داخل ہوئے تو ان کا ایک قومی ہیرو کے طور استقبال کیا گیا۔

قطر کے امیر نے غزا میں اسلامی یونیورسٹی میں حاضرین سے دریافت کیا کہ فلسطینی تقسیم کیوں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’امن کے لیے مذاکرات نہیں ہو رہے اور آزادی اور مزاحمت کی بھی کوئی واضح حکمت عملی نہیں۔ کیوں نہیں آپ لوگ مل بیٹھتے اور اپنے اختلافات ختم کر دیتے۔‘

حماس نے دو ہزار چھ میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی وفادار فورسز کو غزا سے نکال دیا تھا اور ایک متبادل حکومت تشکیل دے دی تھی۔

جواب میں اسرائیل نے غزا کی ناکہ بندی کر دی تھی جس سے غزا میں رہنے والوں کے لیے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔

قطر کے امیر نے غزا شہر میں ایک فٹ بال سٹیڈیم میں خطاب کرنا تھا لیکن ان کی یہ تقریر آخری لمحات میں منسوخ کر دی گئی۔

اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان یگال پالمور کا کہنا تھا کہ یہ بہت عجیب بات ہے کیونکہ حماس کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد گروہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس کے رہنما کو گلے لگا کر قطر کے امیر نے امن کے عمل کو بس کے نیچے دھکیل دیا ہے۔

قطر عرب دنیا کا امیر ترین ملک ہے اور حماس کو مالی امداد فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔

اس سال فروری میں حماس نے اعلان کیا تھا کہ ان کی سیاسی قیادت شام سے مصر اور قطر منتقل ہو گئی ہے کیونکہ شام میں کشیدگی کے باعث ان کے لیے وہاں رہ کر کام کرنا ممکن نہیں رہا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔