شام پر اقوام متحدہ کی ہنگامی منصوبہ بندی

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 04:04 GMT 09:04 PST
شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین

شام میں امن قائم کرنے والی کسی بھی فوج کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری ضروری ہے

اقوام متحدہ شام میں جنگ بندی کی صورت میں ہنگامی منصوبہ بندی کے تحت امن فوج کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے شام میں عید الاضحی کے موقع پر جنگ بندی کی اپیل کی ہے، مسلمانوں کا یہ مذہبی تہوار جمعہ سے شروع ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا نگراں مشن گذشتہ سال شام میں کام کر رہا تھا تاہم خطرناک صورت حال پیدا ہونے کے بعد اسے وہاں سے ہٹا لیا گیا۔

شام میں امن قائم کرنے والی کسی بھی فوج کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری ضروری ہے تاہم شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منقسم ہے۔

مغربی اور عرب ممالک نے ماضی میں شام پر اقوام متحدہ کی کارروائی کی حمایت کی ہے لیکن روس اور چین نے اس کے متعلق قراردادوں کو ویٹو کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے قیام امن کے سربراہ ہرو لیڈسوس نے کہا ہے کہ ان کا شعبہ جنگ بندی اور سیاسی معاہدے کی صورت میں متبادل پر غور کر رہا ہے۔

انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہم اس کے بارے میں غور کر رہے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا، کیا کوئی سیاسی معاہدہ ہوتا ہے یا کم از کم جنگ بندی ہوتی ہے۔ ہم اس کے بارے میں مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قیام امن کے لیے کتنے فوجی تعینات کیے جائیں گے اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

شام میں تشدد

شام میں تشدد کے واقعات میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی

اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے آنے والے مذہبی تہوار کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا امکان بہت کم ہے۔

نامہ نگار کے مطابق اس بارے میں نہ تو باغیوں نے اور نہ ہی فوج نے کوئی عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں، جبکہ مسلح حزب اختلاف کے اراکین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کا امکان کم ہی ہے۔

شام میں رواں برس اپریل میں اقوام متحدہ کا ایک مبصر مشن جنگ بندی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

اس مبصر مشن کی موجودگی بھی شام میں تشدد کو کم کرنے میں ناکام رہی۔ مبصر مشن کو شام میں آزادی کے ساتھ سفر کرنے میں مشکلات پیش آئیں یہاں تک کہ کئی جگہوں پر ان پر گولیاں بھی چلائی گئیں۔

مبصر مشن نے جون میں اپنا کام چھوڑ دیا اور دو ماہ بعد سکیورٹی کونسل نے ان کی وہاں موجودگی کو مزید توسیع دینے سے گریز کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔