پاکستانیوں کے سوا دنیا میں اوباما مقبول

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 08:56 GMT 13:56 PST

آخری ڈیبیٹ میں بھی اوباما کو برتری ملتی دیکھی گئي

دنیا کے اکیس ممالک میں بی بی سی کی عالمی سروس کی جانب سے کروائے جانے والے پول کے مطابق پاکستانیوں کے سوا دیگر ممالک کے شہری براک اوباما کو ایک مرتبہ پھر امریکہ کا صدر بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

تین جولائی سے تین ستمبر دو ہزار بارہ کے عرصے کے دوران اس عوامی جائزے کا اہتمام گلوب سکین نے کیا اور اس میں اکیس ہزار سے زائد افراد کی رائے لی گئی۔

رائے دینے والے افراد میں سے جہاں پچاس فیصد افراد براک اوباما کو کرسی صدارت پر براجمان دیکھنے کے متمنی نظر آئے وہیں صرف نو فیصد مٹ رومنی کے حامی نکلے اور بقیہ اکتالیس فیصد کے خیال میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان دونوں میں سے کون امریکہ کا اگلا صدر بنتا ہے۔

نتائج کے مطابق فرانسیسی عوام میں براک اوباما سب سے زیادہ مقبول ہیں جہاں بہتّر فیصد عوام نے ان کے حق میں رائے دی جبکہ مٹ رومنی کے حامیوں کی تعداد صرف دو فیصد تھی۔

فرانس کے علاوہ آسٹریلیا، کینیڈا، نائجیریا اور برطانیہ وہ ممالک ہیں جہاں ڈیموکریٹ امیدوار کی واضح برتری سامنے آئی۔ آسٹریلیا میں سرسٹھ، کینیڈا اور نائجیریا میں چھیاسٹھ جبکہ برطانیہ میں پینسٹھ فیصد رائے دہندگان نے اگلے امریکی صدر کے لیے براک اوباما کو پسند کیا۔

جائزے میں شامل ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک تھا جہاں ریپبلکن امیدوار مٹ رومنی کو پسند کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ پاکستان میں جہاں چودہ فیصد افراد رومنی کو اگلے امریکی صدر بنتا دیکھنے کے خواہشمند نکلے وہیں اوباما کے حامیوں کی تعداد گیارہ فیصد رہی جبکہ پچھہتر فیصد افراد کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کون امریکہ کا اگلا صدر بنتا ہے۔

رومنی کو پاکستان میں اوباما کے مقابلے میں زیادہ پسند کیا جا رہا ہے

پاکستان کے علاوہ جن ممالک میں مٹ رومنی کو پسند کیا گیا ان میں کینیا اور پولینڈ شامل ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جہاں باقی دنیا میں براک اوباما مقبولیت کی اس دوڑ میں کہیں آگے نکلتے دکھائی دے رہے ہیں وہیں امریکہ میں اس مرتبہ صدارتی الیکشن میں کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دونوں امیدواروں کو قریب قریب ایک ہی جتنے ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

گلوب سکین کے ڈائریکٹر سیم ماؤنٹفرڈ کے مطابق ’اب جبکہ ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں مقابلہ انتہائی سخت ہوگا بقیہ دنیا کی رائے ان حالات میں بھی اوباما کے دوبارہ انتخاب کے حق میں دکھائی دے رہی ہے جبکہ سروے کے دوران ہر پانچ افراد میں سے دو نے اس بارے میں رائے دینے سے گریز کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔