اوباما کے لیے جیتنا آسان نہ ہو گا

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 08:25 GMT 13:25 PST

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں فرنٹ پیج نامی شراب خانہ ہے جس کے نام کا مطلب اخبار کا پہلا صفحہ ہے۔

اس شراب خانے کے ایک ملازم ٹیڈ نامی سیاہ فام امریکی ہیں جو امریکی صدر براک اوباما کے مداح بھی ہیں اور وہ گذشتہ امریکی انتخاب کے دوران بھی یہیں کام کر رہے تھے۔

ٹیڈ نے مجھے بتایا کہ جب صدر اوباما کے جیتنے کی خبر آئی تو شراب خانے میں موجود تمام لوگوں نے جشن منایا اور خوشی سے رونے لگے۔

واشنگٹن میں صرف تین ہزار افراد نے اس وقت کے ریپبلکن امیدوار جان مکین کے لیے ووٹ ڈالا تھا۔ ایک میز پر ریپبلکن جماعت کے کچھ حمایتی بیٹھے تھے اور جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو باقی لوگوں نے نعرے لگائے۔

تاہم اس بار ٹیڈ اوباما کی جیت کے لیے اتنے پرامید نہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ اس بار اوباما کے لیے جیتنا آسان ہوگا۔

ریاست فلوریڈا کی رہنے والی ہیدرگراہم ایک چھوٹے کاروبار کی مالک ہیں

امریکی اخبار ٹیڈ کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں۔ براک اوباما اور ان کے حریف مٹ رومنی کے تیسرے اور آخری مباحثے سے قبل ہر طرف اخبارات، ویب سائٹس اور ریڈیو پر یہی خبر تھی کہ عوامی جائزوں کے مطابق دونوں حریفوں نے برابر تعداد میں ووٹرز کی حمایت حاصل کر لی ہے۔

ریاست فلوریڈا کی رہنے والی ہیدرگراہم ایک چھوٹے کاروبار کی مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلوریڈا میں وہ اس طرح ایک عام ہوٹل میں مباحثے کے دوران صدر اوباما کی کھل کر حمایت بھی نہیں کر سکتیں۔وہاں تو لوگ مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

فرنٹ پیج میں سو لوگ جگہ جگہ لگی ہوئی ٹی وی کی بڑی سکرینوں کی طرف متوجہ تھے۔ تاہم ایک بڑی واضح تفریق تھی۔ جہاں ایک طرف کھیلوں کے مختلف چینل لگے ہوئے تھے دوسری طرف مباحثہ دیکھنے والے افراد کی بہت کم تعداد نظر آ رہی تھی۔

مباحثہ دیکھنے والے لوگ بہت غور سے چپ چاپ امیدواروں کی بات چیت سن رہے تھےجبکہ کھیلوں کے شائقین نے شور مچایا ہوا تھا۔

واشنگٹن جیسے شہر میں گو کہ ڈیموکریٹ جماعت کے حامی اکثریت میں ہیں فرنٹ پیج میں اوباما کے ایک مخالف بھی بیٹھے تھے۔

اپنی برازلین گرل فرینڈ کے ہمراہ موجود ایرن ہنٹ مین صدر اوباما کے چار سال کے دورِ اقتدار سے مایوس ہیں۔ میں نے گذشتہ انتخابات کے دوران صدر اوباما کو ووٹ دیا تھا مگر چار سالوں میں وہ اپنے منشور کی پالیسیوں پر عمل کروانے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے مخالفین سے نرمی سے پیش آئے ہیں۔

اس تیسرے اور آخری مباحثے سے قبل وہ مٹ رومنی کے لیے ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم، اب وہ نہ اوباما اور نہ ہی رومنی کو قابلِ اعتبار تصور کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔