پاکستان دنیا کے لیے اہم رہے گا

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 12:02 GMT 17:02 PST

بی بی سی اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان نے امریکی صدارتی مباحثے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی مباحثے کو دیکھنے کے لیے اگر کسی پاکستانی نے منگل کی صبح چھ بجے اپنے ٹی وی سیٹ کو آن کیا ہو گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ اب یہ سوچ رہے ہوں کہ پرواہ کی ضرورت نہیں۔

کیونکہ پاکستانیوں کے خیال میں ان میں سے اگر کوئی بھی جیت جاتا ہے تو اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ان کے ملک میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

پاکستان جوہری پروگرام، دہشت گردی کے نیٹ ورک، طاقتوار انٹیلیجنس ادارے اور ایک ناکام ریاست میں تبدیل ہونے جیسے غلط اسباب کے باعث دنیا کے لیے اہم رہے گا۔

کیا یہ امریکہ کا اتحادی ہے؟ صرف تکنیکی طور پر، امریکی صدارتی امیدوار میٹ رومنی کے مطابق اگرچہ اس کا رویہ اتحادی جیسا نہیں ہے، اس لیے ابھی طلاق دینے کا وقت نہیں آیا ہے یہاں تک کہ اگر ڈرون حملے ہی اس شادی کو قائم رکھنے کے لیے واحد راستہ نظر آئیں۔

اوباما انتظامیہ کی ڈرون حملوں کے حوالے سے پالیسی ہی واحد ایسی بات تھی جس پر ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو واضح طور پر امید ہو کہ دونوں امیدواروں کے درمیان اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن اس پر بھی قابلِ احترام طریقے سے اتفاق رائے ہو گیا۔

پاکستانیوں کے پاس ان دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لیے کوئی بڑی وجہ نہیں لہذا پاکستانی مٹ رومنی کے اس اصرار پر زیادہ حوصلہ افزائی نہیں ہوگی کہ امریکہ پاکستان کو درست سمت میں رکھنے کے لیے اس کی مشروط امداد جاری رکھے گا جبکہ پاکستان میں بہت سے لوگوں نے سن رکھا ہے کہ پچلی دھائی میں یہاں اربوں ڈالر آئے ہیں۔ چند ایک نے اسے محسوس بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔