’لبنان میں سیاسی عدم استحکام نہیں چاہتے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 اکتوبر 2012 ,‭ 08:38 GMT 13:38 PST

وسام الحسن کی ہلاکت کے بعد سے لبنان میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں نئے سیاسی اتحاد کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتا ہے جہاں سکیورٹی سربراہ کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ملک کے سکیورٹی سربراہ وسام الحسن کی ہلاکت کے بعد سے لبنان کے کئي شہروں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے اور حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورت میں سیاسی خلاء پیدا ہونے سے عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’شام کی وجہ سے پیدا ہونے والا عدم استحکام لبنان کی سکیورٹی کے لیے اس وقت پہلے سی بھی بڑا خطرہ ہے۔‘

امریکی ترجمان نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں مزید کہا ’لبنان میں ہم صدر میکائیل سلیمان اور دیگر رہنماؤں کی ایک موثر حکومت تشکیل دینے کی کوششوں اور دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں ضروری اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ لبنان کا داخلی معاملہ ہے تاہم امریکہ وہاں پر سیاسی خلاء نہیں دیکھنا چاہتا۔‘

انہوں نے کہا کہ بیروت میں امریکی سفیر ماؤرا کونیلی جلد ہی لبنانی رہنماؤں سے ملاقات کر کے نئے سیاسی اتحاد کے متعلق بات چيت کریں گے۔

"لبنان میں ہم صدر میکائیل سلیمان اور دوسرے رہنماؤں کی موثر حکومت تشکیل دینے کی کوششوں اور دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں ضروری اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔"

وکٹریہ نولینڈ

اس دوران یوروپی یونین میں خارجی امور کی پالیسی ساز کیتھرین اشٹین نے بیروت میں صدر میکائیل سلمیان اور وزیراعظم نجیب میقاتی سے بات چیت کی ہے۔

انہوں نے بھی سیاسی خلاء پیدا ہونے سے متعلق خبردار کیا اور نئی حکومت کی تشکیل کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی دہشت گردی رد عمل پر اکسانے اور کشیدگی پھیلانے کے لیے کی جاتی ہے۔‘

لبنان کی انٹیلیجنس کے سربراہ کی ہلاکت کے بعد ملک میں پیدا ہونے والی غیر معمولی کشیدگی کے بعد لبنان کی فوج نے سیاستدانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔

وسام الحسن کی ہلاکت کے بعد لبنان میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ فوج نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے لیکن سیاستدانوں کو کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور خیالات کے اظہار کرتے ہوئے احتیاط کریں۔

اتوار کے روز وسام الحسن کے جنازے کے بعد دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے

وسام الحسن چار روز قبل ایک دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کی تدفین کے بعد سب سے زیادہ جھڑپیں طرابلس میں ہوئیں جہاں تین افراد ہلاک ہوگئے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے داخلی انٹیلیجنس کے سربراہ کی ہلاکت کے واقعے کی تفتیش میں لبنان حکومت کی مدد کرے گا۔

حزبِ مخالف کے اراکین اس حملے کے لیے شامی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ لبنان میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ہمسایہ ملک شام میں جاری کشیدگی ملک میں فسادات کا باعث بن جائے گی۔

لبنان حکومت کا ایک بڑا حصہ شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ سینتالیس سالہ وسام الحسن شام مخالف چودہ مارچ نامی تحریک اور الحریری خاندان کے قریب مانے جاتے تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے سابق وزیرِاعظم رفیق الحریری کے قتل کی تفتیش میں شام کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

درین اثناء ترکی اور اردن کے بعد اب لبنان تیسرا عرب ملک بن گیا ہے کہاں شام سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ شام میں لڑائی کی وجہ سے پڑوسی ملکوں میں نقل مکانی کرنے والے مجموعی طور پر ساڑھے تین لاکھ افراد رجسٹر کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔