یہ کارروائی اسرائیل کی ہے: سوڈان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 20:24 GMT 01:24 PST

سوڈان کی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ دارالحکومت خرطوم میں ایک اسلحہ فیکٹری میں دھماکہ کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔

سوڈان کے ثقافت اور اطلاعات کے وزیر احمد بلال عثمان نے کہا ہے کہ چار اسرائیلی جہازوں نے فیکٹری پر حملہ کیا جس میں دو افراد ہلاک بھی ہو گئے ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے اس الزام پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

سوڈان ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کا الزام اسرائیل پر عائد کرتا رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خیال میں غزا میں اسلحہ سوڈان سے سمگل کیا جاتا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی دستاویزات جو تین سال پہلے منظر عام پر آ ئیں تھیں اُن میں کہا گیا تھا کہ ایران غزا میں حماس کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

سوڈان نے اپریل دو ہزار گیار میں اسرائیل کو پورٹ آف سوڈان کے قریب ایک فضائی حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل نے اس واقعہ پر بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

حالیہ واقع میں یرموک میں ایک اسلح کی فیکٹری کو دھماکوں کے بعد آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فیکٹری کی آگ میں ارگرد کی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔

علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے دھماکوں سے قبل فضا میں ہوائی جہاز یا میزائلوں کی آواز سنی تھی۔

خرطوم میں احمد بلال عثمان نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے خیال میں یہ کام اسرائیل کا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سوڈان اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر اس حملے کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رڈار سے نہ پکڑے جانے والے چار ہوائی جہاز مشرق کی سمت سے آئے اور انہوں نے یرموک کے پلانٹ پر حملہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حملوں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے پتا چلتا ہے کہ یہ کارروائی اسرائیل نے کی ہے اور سوڈان کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ عثمان نے کہا کہ اس فیکٹری میں روائتی ہتھیار بنائے جاتے تھے۔

انہوں نے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے فیکٹری کی عمارت کو نقصان پہنچا اور فیکٹری کے اندر دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا جس کی حالت تشویش ناک ہے۔

اسرائیل فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی عربی سروس کو بتایا کہ اسرائیل اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

سنہ انیس سو اٹھانوے میں بھی امریکہ نے خرطوم میں ایک دوائیاں بنانے والے کارخانے کو تباہ کر دیا تھا جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا تھا کہ وہاں کیمائی ہتھیار بنانے کے اجزاء تیار کیے جا رہے تھے۔

سوڈان نے اس الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس کارخانے میں ملیرے سے بچاؤ کی ادوایات تیار کی جا رہی تھیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔