’شامی حکومت جنگ بندی پررضامند ہو گئی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 اکتوبر 2012 ,‭ 11:48 GMT 16:48 PST
فائل فوٹو، شام میں باغی

شام کے بحران پر بین الاقوامی امن ایلچی اخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ شامی حکومت مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی پر رضامند ہو گئی ہے۔

دریں اثناء شام کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق فوج ابھی اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے اور جمعرات کو اس ضمن میں فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔

عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی نےقاہرہ میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں باغیوں کے گروپوں نے بھی کہا ہے کہ اگر شامی فوج جنگ بندی کرتی ہے تو وہ بھی اس کا جواب دیں گے۔

اخضر ابراہیمی کے بقول وہ چاہتے ہیں کہ جمعہ کو عید کے موقع پر جنگ بندی کی جائے اور یہ چار روز تک جاری رہے جبکہ سیاسی حل کا ماحول بن سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شامی حکومت نے ان کے امن اقدامات کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اخضر ابراہیمی نے اخباری کانفرس میں جنگ بندی کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی اور صرف اتنا کہا ہے کہ شامی حکومت بدھ یا جمعرات کو اس کا اعلان کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ شام میں جن باغی گروپوں سے رابطہ ممکن تھا ان کے رہنماوں سے رابطہ کیا گیا اور وہ جنگی بندی پر رضامند ہیں۔

شام کے بحران پر اس سے پہلے بین الاقوامی ایلچی کوفی عنان کی کوششوں سے فریقین میں جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس پر زیادہ لمبے عرصے تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

خیال رہے کہ منگل کو اقوام متحدہ کے قیام امن کے سربراہ ہرو لیڈسوس نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ شام میں جنگ بندی کی صورت میں ہنگامی منصوبہ بندی کے تحت امن فوج کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔

اخضر ابراہیمی نہ گزشتہ دنوں شام کا دورہ کیا ہے

اقوام متحدہ نے شام میں عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا نگراں مشن گذشتہ سال شام میں کام کر رہا تھا تاہم خطرناک صورت حال پیدا ہونے کے بعد اسے وہاں سے ہٹا لیا گیا۔

شام میں امن قائم کرنے والی کسی بھی فوج کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری ضروری ہے تاہم شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منقسم ہے۔

مغربی اور عرب ممالک نے ماضی میں شام پر اقوام متحدہ کی کارروائی کی حمایت کی ہے لیکن روس اور چین نے اس کے متعلق قراردادوں کو ویٹو کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے قیام امن کے سربراہ ہرو لیڈسوس نے کہا ہے کہ ان کا شعبہ جنگ بندی اور سیاسی معاہدے کی صورت میں متبادل پر غور کر رہا ہے۔

انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہم اس کے بارے میں غور کر رہے ہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا، کیا کوئی سیاسی معاہدہ ہوتا ہے یا کم از کم جنگ بندی ہوتی ہے۔ ہم اس کے بارے میں مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔

انھہں نے کہا کہ قیام امن کے لیے کتنے فوجی تعینات کیے جائیں گے اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

شام میں گذشتہ اٹھارہ ماہ سے باغی صدر بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس دوران لگ بھگ تیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

ا س معاملے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو کوششیں جاری ہے تاہم سلامتی کونسل میں شام کے حوالےسے ممالک بٹے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔