حج، زیارت اور معیشت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 14:45 GMT 19:45 PST
حج، مکہ

مکہ میں لاکھوں لوگ ہرسال حج ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

اسلام کے ایک اہم رکن حج کی ادائیگی کے لیے ساری دنیا سے ایک بڑی تعداد میں مسلمان سعودی عرب میں یکجا ہوئے ہیں۔

لیکن گذشتہ برسوں میں یہ مذہبی فریضہ ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے اور اس سے اس تیل کے ذخیرے سے مالامال ملک کی معیشت کو کافی تقویت ملتی رہی ہے۔

لیکن بہت سے ایسے زائرین بھی ہیں جن کی جیب ان کے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔

تیونس کے ترپن سالہ محمد زیان نے ساری عمر اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے انتظار کیا کیونکہ یہ مفت میں ادا نہیں ہو پاتا۔

روایتی سفید احرام میں ملبوس زیان نے بتایا کہ ’حج پر میرے اخراجات چھ ہزار امریکی ڈالر آئے۔ میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے یہ توفیق دی کہ میں اتنی رقم جمع کر پایا لیکن مجھے افسوس ہے کہ پیسے کی کمی کے سبب میں اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے ساتھ نہ لا سکا۔‘

لاکھوں لوگ جو ہر سال مکہ آتے ہیں وہ اپنے ساتھ اربوں ڈالر سعودی عرب لاتے ہیں۔

ریستوراں، ٹریول ایجنٹ، ایئرلائنز اور موبائل فون کمپنیاں حج کے دوران کافی پیسے بناتی ہیں اور حکومت کو ٹیکس کی صورت میں فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

"میں اس شعبہ میں پینتیس سال سے سرمایہ کاری کر رہا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلی بار مکہ میں ایک میٹر زمین پندرہ ریال میں فروخت کی تھی اور اب یہ اسی ہزار ریال پہنچ چکا ہے"

محمد سعید، عربی تاجر

مکہ کے چیمبرز آف کامرس کے مطابق گذشتہ سال حج کے دس دنوں میں دس ارب ڈالر کی کمائی ہوئی تھی۔

حج کے دوران پرائیوٹ شعبہ کو بھی ریئل سٹیٹ کے میدان میں سرمایہ کاری کرنے سے کافی آمدنی ہوتی ہے۔

سعودی عرب کے مکہ مکرمہ شہر میں جہاں سے اسلام کا احیا ہوا تھا وہاں ہوٹلوں کا کرایہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

مسجد حرام سے قریب ترین ہوٹل کے مالکان ایک رات کا کرایہ سات سو ڈالر تک لیتے ہیں۔اس کے لیے وہ زمین کی قیمت میں ہونے والے زبردست اضافے کو ذمہ دار مانتے ہیں۔

مکہ کے ریئل سٹیٹ کے ایک بڑے تاجر محمد سعید الجہنی نے کہا: ’میں اس شعبہ میں پینتیس سال سے سرمایہ کاری کر رہا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلی بار مکہ میں ایک میٹر زمین پندرہ ریال میں فروخت کی تھی اور اب یہ اسی ہزار ریال تک پہنچ چکی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہاں سپلائی سے زیادہ مانگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں حاجیوں کی بڑھتی تعداد کو رہائش فراہم کرنے کے لیے کئی ہوٹل بنائے گئے ہیں۔‘

شاید اسی بات کے پیش نظر مکہ میں انتہائی اونچی اونچی عمارتیں آئے دن بن رہی ہیں۔اور پرانی عمارتوں کی جگہ چکمدار لگژری ہوٹل بن رہے ہیں جو بہت سے زائرین کے پہنچ سے دور ہیں۔

تجارت

عرب سے حاج تحفے کے طور پرمصلے اور تسبیح لاتے ہیں ۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ضروری ہیں اگرچہ ان کے راستے میں وہ تاریخی مقامات بھی آتے ہیں جو پیغمبر اسلام کے زمانے کے ہیں۔

حج کے دوران مکہ کی یادگار بھی انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔ اس منافع بخش تجارت کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔ لیکن ایک اندازے کے مطابق اس سے ہر سال سینکڑوں لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

تینتالیس سالہ احمد عبدالرحمان ماریشش میں اپنے رشتہ داروں کے لیے یہاں سے بہت ساری یادگاریں لے کر جانے والے ہیں۔

ہاتھ میں ایک تسبیح اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ متبرک تحفے ہیں‘۔ انھوں نے شہر سے باہر اسے تین گنی قیمت پر خریدا ہے۔

مکہ میں ملنے والی چیزیں انتہائی مہنگی ہوتی ہیں حالانکہ ان میں سے زیادہ تر مصلے، جائے نماز، تسبیح وغیرہ چین میں بنتی ہیں۔

لیکن عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ انہیں مکہ میں پیسہ خرچ کرنے میں روحانی سکون حاصل ہوتاہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم دکانداروں کو موقعہ پرست نہیں پاتے بلکہ ہم اپنے مسلمان بھائی کو منافع کمانے میں مدد کرتے ہیں تاکہ ان کا گزارہ ہو سکے۔ اور یہ بڑے ثواب کا کام ہے۔‘

حج اسلام کے پانچ ستون میں سے ایک ہے اور ایسے ہر مسلمان پر فرض ہے جو مالی اور جسمانی اعتبار سے اس کا اہل ہے۔

اسلامی اخوت اور اللہ کے سامنے جھکنے کا یہ فریضہ گزشتہ چودہ سو برسوں سے مسلسل جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔