شام: عید پر جنگ بندی کا فیصلہ متوقع

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 25 اکتوبر 2012 ,‭ 11:08 GMT 16:08 PST

شام کی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر جنگ بندی کی تجویز پر فیصلہ متوقع ہے۔

بدھ کو ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اور اپوزیشن گروہ اس جنگ بندی پر راضی ہیں۔

اخضر ابراہیمی نے جنگ بندی کی کوئی واضح تاریخ نہیں دی تھی اور صرف اتنا کہا تھا کہ شامی حکومت بدھ یا جمعرات کو اس کا اعلان کرے گی۔

لیکن شام کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس منصوبہ کا جائزہ لے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام میں شدید جنگ جاری ہے جہاں گذشتہ اٹھارہ ماہ سے باغی گروہ صدر بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

باغیوں کے اہم گروہ دی فری سیریئن آرمی کا کہنا ہے کہ اگر شامی فوج جنگ بندی کرتی ہے تو وہ بھی اس کا جواب دیں گے۔

شام کے بحران پر اس سے پہلے بین الاقوامی ایلچی کوفی عنان کی کوششوں سے فریقین میں جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس پر زیادہ لمبے عرصے تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

شام میں گذشتہ اٹھارہ ماہ سے باغی صدر بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس دوران لگ بھگ تیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

ا س معاملے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششیں جاری ہیں تاہم سلامتی کونسل میں شام کے حوالےسے ممالک بٹے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔