شام میں عید کے موقع پر چار روزہ جنگ بندی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 05:12 GMT 10:12 PST

جنگ بندی چھبیس سے انتیس اکتوبر تک رہے گی

شام میں مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحٰی کے موقع پر کارروائیاں روکنے پر شامی فوج اور باغیوں کے اتفاقِ رائے کے بعد جمعہ کی صبح سے چار روزہ جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔

ادھر عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ وقفہ شام میں پرتشدد حالات کا شکار شہریوں تک امداد پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ جنگ بندی جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق چھ بجے سے شروع ہوئی ہے تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اگر باغیوں نے اسے نشانہ بنایا تو وہ وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اس جنگ بندی کی تجویز شام میں قیامِ امن کی کوششوں کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی اخضر ابراہیمی نے دی تھی اور انہیں امید ہے کہ یہ ملک میں امن کی بحالی کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی سی آر سی کے ترجمان ایلکس ہیب کا کہنا تھا کہ ’ہم تشدد سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ہم کئی ماہ سے حالات انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکے اور وہاں ہزاروں افراد کو مدد کی اشد ضرورت ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ کسی بھی قسم کی جنگ بندی سے نہ صرف ہمیں امداد پہنچانے کا موقع ملے گا بلکہ زیرِ زمین بنکرز، اپنے مکانات یا پناہ گزین کیمپوں میں موجود شہریوں بھی کچھ دیر کے لیے سکون کا سانس لے سکیں گے‘۔

شام میں جنگ بندی کی کوششیں ماضی میں بھی کی جاتی رہی ہیں لیکن وہ ناکام رہی ہیں۔

اخضر ابراہیمی نے جنگ بندی کے اپنے منصوبے پر حمایت حاصل کرنے کے لیے گزشتہ دو ہفتوں میں پورے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور بدھ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

"ہم تشدد سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ہم کئی ماہ سے حالات انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے نہیں جا سکے اور وہاں ہزاروں افراد کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔ کسی بھی قسم کی جنگ بندی سے نہ صرف ہمیں امداد پہنچانے کا موقع ملے گا بلکہ زیرِ زمین بنکرز، اپنے مکانات یا پناہ گزین کیمپوں میں موجود شہریوں بھی کچھ دیر کے لیے سکون کا سانس لے سکیں گے۔"

ایلکس ہیب، آئی سی آر سی

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اپوزیشن گروپ جنگ بندی کی حمایت کریں گے حالانکہ کچھ باغی گروہوں اس جنگ بندی کی کامیابی کے بارے میں مشکوک ہیں۔

جمعرات کو شام کے سرکاری میڈیا میں شامی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا، ’پورے شامی علاقے میں فوجی کارروائیاں چھبیس اکتوبر کو (مقامی وقت کے مطابق) صبح چھ بجے سے بند ہو جائیں گی اور انتیس اکتوبر تک بند رہیں گی‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شامی فوج جنگ بندی کے باوجود دہشتگردوں کے حملوں، مسلح گروہوں کی جانب سے اپنی پوزیشنیں مضبوط کرنے یا ہمسایہ ممالک سے کمک حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مسلح باغی گروپ فری سيرين آرمی کی مشترکہ کمانڈ کے ترجمان قاسم سعدالدين نے کہا ہے کہ ان کے جنگجو جنگ بندی پر عمل کریں گے تاہم ’حکومت کو اپنی چوکیوں پر مضبوط ہونے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا‘۔

شام کے بحران پر اس سے پہلے بین الاقوامی ایلچی کوفی عنان کی کوششوں سے فریقین میں جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس پر زیادہ لمبے عرصے تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

شام میں گذشتہ اٹھارہ ماہ سے باغی صدر بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اس دوران لگ بھگ تیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

ا س معاملے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششیں جاری ہیں تاہم سلامتی کونسل میں شام کے حوالےسے ممالک بٹے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔