شام میں عارضی فائر بندی کو خطرہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 23:15 GMT 04:15 PST
دمشق

دمشق میں ایک کار بم کے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں

شام میں حکومت اور باغی گروہوں کی جانب سے جاری عارضی فائربندی شدید خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔

دمشق میں ایک کار بم کے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

جنوبی شہر ڈیرا میں بھی ایک کار بم کے دھماکے میں کئی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبہ ہمس، ہاما اور عدلب سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

سرگرموں کی ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزامات لگائے ہیں۔

تاہم حکومت کی جانب سے فضائی حملے نہیں کیے گئے ہیں جنھیں حکومتی حکمتِ عملی میں ایک اہم حیثیت حاصل تھی۔

درین اثنا ایک اور گروہ کا اکہنا ہے کہ جمعہ کو پورے میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الاضحٰی کے موقع پر کارروائیاں روکنے پر شامی فوج اور باغیوں کے اتفاقِ رائے کے بعد جمعہ کی صبح سے چار روزہ جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا۔

ادھر عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے توقع ظاہر کی تھی کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ وقفہ شام میں پرتشدد حالات کا شکار شہریوں تک امداد پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔