عراق:عید پر دھماکے اور فائرنگ، تیس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 27 اکتوبر 2012 ,‭ 16:43 GMT 21:43 PST

عراق میں ہونے والے سلسلہ وار حملوں میں کم سے کم تیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکے ملک میں مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ ہلاکتیں بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقے صدر سٹی میں ہونے والے سنیچر کی شام ہونے والے دو دھماکوں میں ہوئیں جن میں تیرہ افراد مارے گئے۔

اس سے قبل بغداد کے قریبی شہر باویہ میں ایک کھیل کے میدان کے قریب ہونے والے حملے میں تین بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

ایک اور دھماکہ بغداد میں شیعہ زائرین کی ایک بس پر ہوا۔ اطلاعات کے مطابق بس میں سوار مسافروں میں ایرانی باشندے بھی شامل تھے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکام نے عید الاضحیٰ کے موقع پر چار روزہ تعطیلات کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیےگئے تھے۔

باویہ کے ایک رہائشی باسم محمد نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’کسی کو بھی اس دھماکے کی امید نہیں تھی کیونکہ ہمارا علاقہ بغداد کی نسبت پر امن ہے۔‘

’ہمیں ان بچوں کا سوچ کر دکھ ہو رہا ہے جو عید کے روز کچھ خوشگوار لمحےگزارنے نکلے اور مارے گئے اور بعض زخمی ہوگئے۔‘

ایک دوسرے واقعے میں شمالی شہر موصل میں ایک مسلح شخص نے شابک اقلیتی افراد کے گھروں پر فائرنگ کر دی جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ اس اقلیتی گروہ کو ماضی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

بغداد کے قریب ایک دوسری شیعہ آبادی والے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں بھی کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

عراق میں تشدد کے واقعات دو ہزار چھ دوہزار سات میں اپنے عروج پر تھے تاہم اب ان میں قدرے کمی ہوئی ہے۔ اگست میں عید الفطر کے موقع پر ہونے والے حملوں میں کم سے کم نوے افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔