’امریکی شہری طوفان کو بہت سنجیدگی سے لیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 02:15 GMT 07:15 PST

چھ کروڑ امریکی شہری ’سپرطوفان‘ سینڈی سے متاثر ہو سکتے ہیں

جزائر غرب الہند میں تباہی مچانے کے بعد سمندری طوفان ’سینڈی‘ امریکہ کی مشرقی ریاستوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔

سمندری طوفان کی وجہ سے سے کروڑوں افراد ہائی الرٹ پر ہیں اور لاکھوں افراد محفوظ مقامات کی طرف چلےگئے ہیں۔

صدر اوباما نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سمندری طوفان کو بہت سنجیدگی سے لیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر اوباما ریاست اوہایو میں انتخابی مہم کی سرگرمیاں ترک کر کے واپس واشنگٹن پہنچ رہے ہیں تاکہ صورتحال کی نگرانی کی جا سکے۔

ایک اندازے کے مطابق چھ کروڑ امریکی شہری اس ’سپرطوفان‘ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس طوفان سے گزشتہ ہفتے جزائر غرب الہند اور کیوبا میں ساٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ سخت سرد موسم اور تیز ہواؤں سے انتخابی مہم کے علاوہ چھ نومبر کو الیکشن کے دن پولنگ کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کے خیال میں سینڈی سوموار کو امریکہ کی مشرقی ریاستوں سے ٹکرائے گا اور امریکی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی کئی ریاستوں کو مثاثر کر ے گا۔ نیویارک انتظامیہ نےسب وے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدارتی امیدواروں نے سینڈی سے پیدا ہونے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی انتخابی مہم کے شیڈول میں تبدیلی کی ہے۔ صدر براک اوباما نے طوفان سے نمٹنے کے لیے ہنگامی خدمات کے سربراہان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سمندری طوفان مغربی امریکہ سے آنے والی سرد ہواؤں سے مل کر خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں شدید سردی کی لہر آ سکتی ہے۔

صدارتی امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم کے پروگرام میں تبدیلی کرنی پڑی ہے

اس طوفان کے راستے میں اہم انتخابی میدان قرار دی جانے والی ریاستوں میں سے دو فلوریڈا اور اوہایو بھی ہیں اور تجزیہ کاروں کے خیال میں اس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا اثر ووٹنگ پر پڑ سکتا ہے۔

امریکہ کی وفاقی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر کریگ فیوگیٹ کا کہنا ہے کہ ’خطرہ صرف ساحلی علاقے کے لیے نہیں ہے بلکہ ایک بڑا علاقہ اس کی زد پر ہے‘۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات سے قبل آئندہ ہفتہ انتخابی مہم کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ صدر اوباما اور ان کے مخالف صدارتی امیدوار مٹ رومنی کو طوفان کے سبب انتخابی مہم کی مصروفیات میں تبدیلیاں کرنا پڑی ہیں۔

مٹ رومنی نے اتوار کو خراب موسم کی وجہ سے اہم انتخابی ریاست ورجینیا میں طے شدہ ایک تقریب منسوخ کر دی ہے اور اب وہ اوہایو جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کے مطابق براک اوباما بھی اب پیر کی بجائے اتوار کو فلوریڈا جا رہے ہیں اور انہوں نے پیرکو ورجینیا میں سابق صدر بل کلنٹن سے ملاقات اور منگل کو کولوراڈو میں ریلی منسوخ کر کے وائٹ ہاؤس سے طوفان کی صورتحال پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب پر نظر رکھنے والی بی بی سی کی نامہ نگار بریجٹ کینڈل کا کہنا ہے کہ دونوں امیدواروں کے لیے موجودہ صورتحال انتہائی اہم ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اوباما کیسے اس قدرتی آفت سے نمٹتے ہیں اور رومنی اس صورتحال سے کتنا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔