دو مزید تبتی باشندوں کی خودسوزی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 15:09 GMT 20:09 PST

چین میں ایک ہفتے میں سات تبتی باشندوں نے احتجاجاً خودسوزی کی ہے۔

چین میں دو مزید نوجوانوں نے احتجاجاً خود سوزی کر لی ہے اس طرح گزشتہ ایک ہفتے میں خود سوزی کرنے والے نوجوانوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ایک گروپ فری تبت نے کہا ہے کہ شمال مغربی چین میں دو تبتی باشندوں نے جو آپس میں رشتہ بھی تھے بیجنگ کی سخت حکمرانی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود سوزی کی ہے۔

’فری تبت‘ کے مطابق خود سوزی کرنے والوں میں بیس سالہ تسیپو اور دوسرا پچیس سالہ ٹنزن شامل تھے۔

دونوں افراد نے جمعرات کو چین کے شہر لحاسا میں ایک سرکاری عمارت کے سامنے خود سوزی کرتے وقت بھی تبت کی آزادی کا مطالبہ کیا۔

سنیچر کو جاری کردہ فری تبت گروپ کے ایک بیان کے مطابق خودسوزی کے بعد ایک نوجوان ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا جبکہ دوسرے کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ہفتے میں آزادی کے حق میں احتجاجاً خود سوزی کرنے والے تبتی باشندوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

فری تبت کے ڈائیریکٹر سٹیفن برگڈن کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے بارے میں معلومات سامنے آنے میں دو دن لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔

سٹیفن برگڈن کے مطابق ’تبت کے لوگ وہاں ہونے والے واقعات کے بارے میں بات نہیں کرتے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت ان کی بات چیت کی نگرانی کرتی ہے‘۔

فروری دو ہزار نو سے اب تک تبت میں چینی حکمرانی کے خلاف ساٹھ تبتی باشندوں نے خودسوزی کی ہے جس میں زیادہ تر پادری اور راہبائیں شامل تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان خود سوزی کرنے والوں میں بہت کم لوگ زندہ بچے ہیں۔

چین میں بہت تبتی باشندے الزام لگاتے ہیں کہ حکومت نے مذہبی پاپندیاں عائد کی ہیں اور چینی اکثریتی ہان قبیلے کے لوگوں کی تبت کے علاقے میں ہجرت سے تبتی تہذیب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری طرف چین ان الزامات کی ترید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تبت میں مذہبی آزادی ہے اور بڑی سطح پر سرمایہ کاری سے علاقے میں ترقی ہوئی ہے اور تبت کے لوگوں کی معیار زندگی بہتر ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔