دمشق: کار بم دھماکے میں دس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 12:36 GMT 17:36 PST
شام میں ایک دھماکے کی فائل فوٹو

شام میں جنگ کی صورتحال ہے

شام میں سرکاری میڈیا کے مطابق دارالحکومت دمشق میں جنگ بندی کے چوتھے دن ایک کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ دمشق کے جنوب مشرقی ضلع جارامانہ میں پیش آیا ہے۔

ٹی وی کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن کے بین الاقوامی ایلچی اخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ فریقین جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے جمعہ کو شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان عیدالاضحٰی کے موقع پر جنگ بندی کروائی گئی تھی اور اس جنگ بندی میں اخضر ابراہیمی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

اخضر ابراہیمی فی الوقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہیں۔ ماسکو میں وزير خارجہ سرگئی لیوروف سے بات چیت کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا ’شام میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں‘۔

حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی ناکامی سے وہ ہار نہیں مانیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امید کی تھی کہ جنگ بندی کے اس معاہدے سے حکومت اور باغیوں کے درمیان نفرت کو ختم کرنے کے لیے ایک سیاسی عمل کی ابتدا ہو سکے گی۔

انسانی حقوق کی تنظيم سیرئین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام تشدد کے مختلف واقعات میں ایک سو دس افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں انتالیس شہری، چونتیس باغی جنگجو، اور پیتیس سیکورٹی اہلکار شامل تھے۔

اس سے قبل اتوار کو ہی حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق عیدالاضحٰی کے موقع پر حکومتی افواج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی علاقوں میں شدید گولہ باری کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق یہ گولہ باری دارالحکومت دمشق، مشرقی شہر دیر ایزور اور باغیوں کے زیرِ اثر شمالی صوبے حلب میں کی گئی تھی۔

شام میں فریقین کے مابین ہونے والی اس عارضی جنگ بندی کے پہلے روز ہی ایک سو پچاس افراد کی ہلاکت کی اطلاع تھی۔

حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق شام میں تشدد کے دوران حالیہ دنوں میں روزانہ کم سے کم ایک سو پچاس افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم موئر کا کہنا ہے جمعہ کو عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تشدد کے واقعات رکے نہیں ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پیر کو انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں حرستا میں حکومت کے جنگی جہاز بم پھینک رہے ہیں اور لوگ ملبے سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے بعد سرکاری میڈیا نے خبر دی کہ ایک ’شدت پسند‘ گروپ نے جرمانا کے علاقے میں ایک بیکری کے باہر کار میں بم نصب کردیا تھا۔ جرمانا دارالحکومت دمشق میں عیسائی اکثریت والا علاقہ ہے۔

حکومت کے اہلکاروں نے خبررساں ایجنسی ایسوسیو ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ بیکری کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں اکتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔