’عورتوں کے حقوق لیے ملالہ کے ساتھ ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

ملالہ کے والد کا کہنا ہے کہ وہ صحتیابی کے بعد پاکستان واپس جائے گی۔

برطانیہ، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے وزراء نے برطانیہ میں اُس ہسپتال کا دورہ کیا ہے جہاں پاکستان میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والے ملالہ یوسف زئی کا علاج ہو رہا ہے۔

ملالہ یوسف زئی کو سوات میں طالبان نے گولی مار دی تھی۔ ان پر یہ حملہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے اور طالبان کی مخالفت کی وجہ سے کیا گیا۔

پیر کو برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ، متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زید، اور پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے کوئین الزبتھ ہسپتال کا دورہ کیا۔

ملالہ یوسف زئی دو ہفتے سے برطانیہ کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں اب ان کی حالت مستحکم ہے۔ گولی لگنے سے ان کا سر اور گردن متاثر ہوئی تھی تاہم علاج کے بعد اب وہ سہارے سے چلنے اور کھڑے ہونے کے قابل ہوگئی ہیں۔

"ملالہ کی جلد اور مکمل صحتیابی ہماری اولین ترجیح ہے۔ لیکن ہم پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کریں گے۔"

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ

برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق تینوں وزراء نے ہسپتال میں ملالہ کے معالجوں اور ان کے والد سے ملاقات کی۔

ملالہ کے والدین اور دو بھائی گذشتہ ہفتے ہیں برطانیہ پہنچے ہیں۔ ملالہ کے والد کا کہنا ہے کہ کہ ملالہ صحتیابی کے بعد پاکستان لوٹیں گی۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ’ملالہ کی جلد اور مکمل صحتیابی ہماری اولین ترجیح ہے۔ لیکن ہم پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان اور دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق لیے سرگرم ملالہ جیسے تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

عرب امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ زید نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے لوگ ملالہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر صدمے میں ہیں اور اسی لیے انہوں نے ملالہ کو پاکستان سے برطانیہ لانے کے لیے ایئر ایمبولینس مہیا کی۔

"ملالہ کے حوصلے نے اُن ارادوں کو جِلا بخشی ہے جن کے مطابق ہمیں عدم برداشت اور شدت پسندی کی سوچ کو مسترد کرنا ہے۔"

شیخ عبداللہ بن زید

انہوں نے مزید کہا کہ ’ملالہ کے حوصلے نے اُن ارادوں کو جِلا بخشی ہے جن کے مطابق ہمیں عدم برداشت اور شدت پسندی کی سوچ کو مسترد کرنا ہے‘۔

اس موقع پر پاکستانی وزیرِ خارجہ رحمان ملک نے برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملالہ پر ہونے والا حملہ پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کے لیے تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔