’امریکہ میں سپر طوفان‘

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 05:50 GMT 10:50 PST

بڑے طوفان کے خطرے کے پیش نظر نیویارک شہر اور نیوجرسی سمیت مشرقی ساحل پر پونے چار لاکھ افراد سےگھر خالی کرادیئے گۓ ہیں۔

امریکہ کے مشرقی ساحل پر سب سے بڑے تاریخی طوفان کے انتہائی خطرے کے پیش نظر نیویارک میں اقوام متحدہ اور تمام اسکولوں کو منگل تک بند کردیا گیا ہے جبکہ شہر کے بعض علاقوں اور ریاست میں امریکی فوج کے نیشنل گارڈز کو متعین کردیا گیا ہے۔ جبکہ نیویارک شہر اور نیوجرسی سمیت مشرقی ساحل پر پونے چار لاکھ افراد سے میں اپنے گھر خالی کرادیے گۓ ہیں۔

امریکہ کے مشرقی ساحل پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب یا پیر کی صبح متوقع تین رخی موسمی نظام کے ممکنہ آفات کے ساتھ آنیوالا سمندری طوفان ہیریکین سینڈی ماحولیاتی تاریخدانوں کے مطابق انیس سو اڑتیس میں آنیوالے اس سمندری طوفان سینڈی سے کئي گنا خطرناک اور بڑا متوقع کیا جارہے ہے جس سینڈی طوفان میں آٹھ سو افراد ہلاک ہوگۓ تھے۔

نیویارک کے پرانے باسی اور صحافی ظفر قریشی کا کہنا ہے اس طوفان سے لانگ ائیلنڈ شاہراہ ڈوب گیا تھا اور اس طوفان کو مقامی طور ایکسپرس وے کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیس برس قبل بھی نیویارک میں سمندری طوفان سینڈی گزرا تھا۔ لیکن مشرقی ساحل سے ٹکرانے والا موجودہ سینڈی طوفان جو کہ نیویارک اور قریبی نیوجرسی سے کچھ گنٹوں کےمفاصے پر تھا کئي گنا شدید بتایا جا رہا ہے۔

نیویارک کے پانچوں بوروز یا اضلاع میں طوفان کے خطرے تلے آئے زیرین علاقوں سے انخلا کرنے والے لوگوں کی پناہ و امداد کیلیے ریاستی اور شہری حکومت اور امریکی ریڈ کراس نے ایمرجنسی شیلٹرز قائم کیے ہیں۔

لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی نیویارک میں خورد و نوش سمیت بنیادی اور ہنگامی اشیاء کی خردیداری کیلیے نہ ختم ہونیوالی قطاریں دیکھی گئيں، جبکہ نیویارک شہر کا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام جس کے صرف سب وے یا زیر زمین ریل کے نظام میں چونتیس لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں سر شام واپسی کے رش کے بعد ریل اسٹیشن ویران ہوتے دکھائی دیے ، نیویارک کے میئر اور حکام نے اتوار کی شام نیویارک کی ٹرینیں اور بیسں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نیویارک اور نیوجرسی کو ملک بھر سے آنے اور جانیوالی ٹرینیں معروف ایم ٹریک سمیت بند کردی گئی ہیں۔

اسوقت نیویارک شہر جس کے بارے میں کہاوت ہے کہ یہ شہر کبھی نہیں سوتا لیکن اسکے جاگنے والے زیادہ تر علاقے ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

نیویارک کے حکام نے مینہیٹن اور ایٹلانٹک یا بحر اوقیانوس کے قریب اور زیرین علااقوں سے لوگوں کو لازمی طور اپنے گھر خالی کردینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نیویارک میں لوئر مینہیٹن، بروکلین اور کوئنز کے علاقوں کے ساحل سمندر کے قریب کونی آئيلینڈ ، بینسن ہرسٹ، رواکا وی سے انخلا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تین لاکھ پچہتر ہزار یا پونے چار لاکھ افراد نیویارک شہر کے زیریں علاقوں سے انخلاء کرچکے ہیں۔ جبکہ نیویارک کی قریبی ریاست نیوجرسی میں جواخانے ہونے کی شہرت رکھنے والے ساحلی شہر ایٹلانٹک سٹی کو لوگوں سے خالی کرادیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے مشرقی ساحل پر سولہ ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا حکم دیا ہے جن میں سے نیویارک ریاست میں دو ہزار اور نیویارک شہر میں دو سو نیشنل گارڈز تعینات کیے گۓ ہیں۔ جبکہ اکاون ہزار نیشنل گارڈز کو تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکی خبروں کی ٹی وی چنیل سی این این کے مطابق وفاقی حکومت نے مشرقی ساحل پر موجود نیوکلیئر اسٹیشنوں پر انسپیکٹر روانہ کردیے ہیں، سی این این نے امریکی حکام کے حوالے واضح کیا ہے کہ اگرچہ امریکی مشرقی ساحل پر فضاء کسی بھی نیوکلیائي آلودگی یا خطرے سے خالی ہے لیکن انسپییکٹروں کے بھیجے جانے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔

نیویارک شہر کے میئر بلومبرگ نے اتوار کی شام نیویارک شہر اور گورنر کومو نے ریاست میں تمام اسکول بند کردینے کا اعلان کیا۔ جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے اقوم متحدہ کے دفاتر منگل تک بند کرنے کا حکم جاری کیاہے۔ اسی طرح نیویارک شہر میں گيارہ لاکھ طالب علم اسکول سے تعطیل پر ہونگے۔ کئي اسکولوں میں ہنگآمی امدادی مراکز قائم کیے گۓ ہیں۔

مشرقی ساحال پر ریاست شمالی کیرولائنا سمیت لاکھوں افراد بغیر بجلی کے رات گزار رہے ہیں جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق بجلی کی بحالی کیلئے دوسری دور درازریاستوں سے بھی بجلی کے عملے بلوائے گۓ ہیں ۔ یہاں تک کہ امریکہ سے باہر کینیڈا اور میکسیکو سے بھی امدادی عملہ منگوایا جارہا ہے ۔

در ایں اثنا، آئندہ ماہ کے شروع میں چھ نومبر کو ہونیوالے صدارتی انتخابات میں مشرقی ساحل پر رخنے کا امکان بتایا جارہا ہے جبکہ کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ طوفان کے یہ خطرے امریکی مشرقی ساحل پر منڈلانے لگے ہیں جو کہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر حالیہ امریکی صدارتی انتخابی مہم میں صدارتی مباحثے میں دونوں بڑی پارٹیوں کے امیدوار بحث کرنے سے کتراتے رہے تھے یعنی کہ کلائمیٹ چنیج کا ماحولیاتی تبدیلی۔

خیال رہے کہ امریکہ میں کلآئمیٹ چینج اور ماحولیاتی تحاریک کے حلقے ماحولیاتی تبدیلی پر زوردار بحث کرتے ہیں اور دو ماہ قبل امریکی میڈیا میں ماحولیاتی ماہرین کے حوالے سے امریکہ کو دنیا میں سمندری طوفانوں سمیت ماحولیاتی، قدرتی آفات کی بڑي آماجگاہ قراردیا گیا تھا۔

امریکی موسمیاتی ماہرین کے مطابق اتوار او رپیر کی شب آنے والا سمندری طوفان جو نیویارک اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی اور میری لینڈ سے فقط گنٹوں دور رہ گیا ہے تین رخی سنمدری ہے۔ اور یہ طوفان ہیرکین کیٹیوری دو کےعلاوہ اپنے ساتھ ستر میل فی گھنٹہ کے حساب سے غربی جزائر ہند سے طوفانی ہوائيں، مغربی امریکی سے برف اور کنیڈ سے یخ بستہ ہوائيں بیک وقت لا رہا ہے جس میں بڑی سمندری طغیانی کے علاوہ ، دو فوٹ برف اور بارش بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔