پروفیشنل باکسنگ مقابلے میں رحیمی کی فتح

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 05:27 GMT 10:27 PST
باکسنگ

افغانستان میں پہلی بار مردوں کے باکسنگ کے پروفیشنل مقابلہ افغان نژاد جرمن باکسر حامد رحیمی نے جیت لیا ہے۔

افغانستان میں پہلی بار مردوں کے باکسنگ کے پروفیشنل مقابلوں کا انعقاد ’امن کے لیے مقابلہ‘ کے عنوان سے دارالحکومت کابل میں ہوا۔

ان مقابلوں کے انعقاد کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ حامد رحیمی نے تنزانیہ کے سید بیلوہ کو شکست دی۔

اپنی جیت کے بعد رحیمی نے کہا ’یہ شروعات ہے۔ یہ بیلٹ میری نہیں ہے بلکہ افغانستان کی ہے۔

بارہ راؤنڈز پر مشتمل یہ مقابلے عالمی باکسنگ ایسوسی ایشن کی انٹرکانٹیننٹل مڈل ویٹ بیلٹ کے لیے منعقد کیے گئے۔

لاکھوں افغان ان مقابلوں کو براہ راست ٹی وی پر اور میدان میں دیکھا۔

یاد رہے کہ طالبان نے اپنے دور حکومت کے اواخر میں باکسنگ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے تئیس سالہ بیلوہ سپر مڈل ویٹ کی درجہ بندی میں باکسنگ کرتے ہیں اور انہوں نے اکتیس لڑائیاں لڑی ہیں جن میں سے انیس میں انہوں نے فتح حاصل کی جبکہ چار بغیر کسی نتیجے کے تھیں۔

دوسری جانب رحیمی اپنے حریف سے عمر میں چھ سال بڑے ہیں اور انہوں نے اب تک اکیس مقابلوں میں سے بیس مقابلوں میں فتح حاصل کی ہے۔

رحیمی نے اس ہفتے کے آغاز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کھیل ہی صرف اس منقسم معاشرے کو متحد کر سکتے ہیں۔

رحیمی نے کہا کہ ’اگر بچے کھیلوں میں دلچسپی لیں تو وہ بندوقیں نہیں اٹھائیں گے اور میں خود ایک کھلاڑی ہوں جو کھیلوں کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے اور امید کرتا ہوں کے کھیلوں کے زریعے میری سرزمین میں امن قائم ہو‘۔

بیلوہ نے کہا ’مجھے اندازہ ہے کہ یہ افغانستان کے کتنا اہم موقع ہے اور اس کے زریعے پوری دنیا کے لیے کتنا اہم پیغام جائے گا۔ لیکن جب مقابلے کے رنگ میں گھنٹی بجے گی تو پھر یہ ایک مقابلہ ہوگا جس میں یقین رکھتا ہوں کہ میں رحیمی کو چوتھے راؤنڈ میں ناک آوٹ کر دوں گا‘۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔