سینڈی کی آمد نے دونوں انتخابی مہم بدل دیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 01:48 GMT 06:48 PST

اپنی انتخابی مہم میں اس نئے جوش سے مٹ رامنی ایک دلچسپ انداز میں متاثر ہوئے ہیں

صبح کے آغاز تک تو اوہائیو میں تقریباً ایک عمومی انتخابی مہم جیسا ماحول تھا۔ مگر اب تیز ہواؤں اور برستے بادلوں کے پیشِ نظر یہ دلچسپ مہم تھم سی گئی ہے۔

مٹ رومنی کی ’ایوون لیک ہائی سکول‘ میں تقریر کا اختتام ہو ہی رہا تھا کہ وہاں موجود صحافیوں میں یہ بات گردش کرنے لگی کہ ان کی مہم کی انتظامیہ نے پیر اور منگل کے دنوں کی تمام انتخابی تقریبات منسوخ کردی ہیں۔

متوقع طوفان سینڈی کی وجہ سے منطقی ردِ عمل یہ ہی تھا۔ اس بار ریپبلکن نیشنل کنونشن ایک اور خلیجی طوفان کے پیشِ نظر تاخیر سے شروع ہوئی۔ اسی طرح یہ بالکل غیر معقول ہوتا کہ مٹ رومنی ایسے وقت میں جب ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ جاری ہے، اپنی مہم جاری رکھتے۔

مگر یہ ریلی انتہائی زبردست تھی۔ مٹ رومنی کے مداح ان کے نام پر پُرجوش نعرے بازی کر رہے تھے۔ ان سے بات کرتے ہوئے مجھے فتح کے بارے میں جنونی طرز کا یقین تو نظر نہیں آیا تاہم اس امکان کے سلسلے میں ایک اعتماد ضرور واضح تھا۔ پہلے صدارتی مباحثے سے قبل کی صورتحال کے مقابلے میں یہ برعکس تھا۔ اُس وقت تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کئی ریپبلکن ساتھیوں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ ہار کی صورت میں کس کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔

جیسے کے عام طور پر ریپبلکن جلسوں میں ہوتا ہے، یہاں بھی زیادہ تر لوگ سفید فام اور قدرے زیادہ عمر کے تھے۔ اس میں کچھ غلط بات نہیں مگر یہ بات غور طلب ضرور ہے کہ دنیا کے کثیر نسلی معاشروں میں سے ایک ہونے کے باوجود، امریکہ کی ریپبلکن پارٹی چالیس سال کی عمر سے کم والے افراد اور نسلی اقلیتوں میں کسی قسم کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اپنی انتخابی مہم میں اس نئے جوش سے مٹ رومنی ایک دلچسپ انداز میں متاثر ہوئے ہیں۔

ادھر ان کے سٹیج پر آنے کے چند منٹوں میں ہی امریکہ کے ممکنہ اگلے صدر کے ایک نظارے کے لیے آئے طلبہ، ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے یا اپنے فون چیک کرنے لگے۔

مٹ رومنی نے اپنی روایتی تقریر کی جس میں ان کی زیرِ قیادت امریکہ کیسا ہوگا، اس کا تو کوئی وژن نہیں تھا البتہ یہ ضرور تھا کہ وہ کاروباری ٹیکس کی شرح میں کمی کریں گے اور ٹیکس نظام میں تبدیلیاں کیسے کریں گے۔

ریپبلکن ووٹر اپنے امیدوار کے غیر دلچسپ رویے سے پریشان نہیں لگ رہے تھے۔ وہ ووٹرز جنہوں نے ابھی اس سلسلے میں فیصلہ نہیں کیا ہے وہ بھی شاید اس بات کا برا نہیں منا رہے تھے بلکہ کچھ تو اس بات پر خوش تھے کہ دو ہزار آٹھ کی انتخابی مہم کے آسمان بوس وعدوں کو مٹ رومنی نے سوکھے دعووں میں بدل دیا ہے۔

اوباما کے ایک سابق حمایتی برائن لیونارڈ نے مجھے بتایا ’ہر کوئی کہتا ہے کہ مٹ رومنی کوئی پسندیدہ آدمی نہیں ہیں۔ مگر میں کوئی کلاس کا صدر تو نہیں چن رہا ۔۔۔ میں ان کو اس لیے ووٹ دوں گا کیونکہ ہمیں اب کچھ کرنا ہے۔‘

مٹ رومنی کے ساتھیوں نے انہیں عوام کی نگاہوں کے سامنے رکھنے کے لیے ایک ایسی تقریب کا انتظام کیا ہے جس میں یہ نہ لگے کہ وہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منگل کے روز وسطی آئی اووا میں وہ طوفان کے لیے امدادی کارروائی کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔