اسقاطِ حمل: امریکہ میں اہم سیاسی مسئلہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 08:22 GMT 13:22 PST

اسقاطِ حمل ایک بڑا اور ہمیشہ موجود رہنے والا سیاسی مسئلہ ہے

امریکہ ایک جدید ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت مذہبی ملک بھی ہے۔ یہاں ہر سال پانچ ہزار نئے گرجاگھر بنتے ہیں اور مذہبی مسائل پر بحث جذباتی ہوتی ہے۔

اسقاط حمل یہاں ایک ایسا لفظ ہے جس کے بارے میں عام طور پر تنازع پیدا کیے بغیر بات نہیں کی جا سکتی۔

اس ایشو نے امریکی معاشرے اور سیاست کو کئی دہائیوں سے دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کی حامی تقریباً تمام ریاستیں اسقاط حمل کے حق میں جبکہ ری پبلکن پارٹی والی ریاستیں اس کے خلاف ہیں۔

صدر کے عہدے کے لیے انتخاب ہو یا سینیٹ کے لیے، یہ مسئلہ ہر انتخابات میں اپنا سر ضرور اٹھتا ہے اور یہ ایک بڑا اور ہمیشہ موجود رہنے والا سیاسی مسئلہ ہے۔

دو دن پہلے ہم لوگ ریاست میري لینڈ میں تھے جہاں اسقاط حمل کی اجازت ہے۔وہاں مجھے اسقاط حمل کے مخالف دو سماجی کارکن سردی اور تیز ہوا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسقاط حمل کے ایک نجی کلینک کے سامنے پوسٹر اور بینر لیے کھڑے دکھائی دیے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ ان کی بات کوئی سن رہا ہے کہ وہ ایک ایسی ریاست میں اسقاط حمل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جہاں یہ جائز ہے۔ دونوں نے کہا کسی کو حمل میں زندہ بچے کو مارنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا، ’اسقاط حمل کا قانون اور انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے مذہب کے مطابق بچہ دانی میں بچے کی جان لینا قتل کے برابر ہے اس لیے ہم اس کلینک کے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘۔

امریکہ میں حاملہ خواتین حمل کے بارہ ہفتے پورے ہونے سے پہلے اسقاط حمل کروا سکتی ہیں اور جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں اسقاط حمل مذہب کے خلاف ہے۔ ایسے افراد ’پرو لائف‘ یا زندگی کے حامی کہلاتے ہیں۔

صدر کے عہدے کے لیے رپبلکن امیدوار مٹ رومني کا تعلق مرمن چرچ سے ہے جو اسقاط حمل کو قتل کہتا ہے۔

براک اوباما اور ان کی جماعت کی دلیل یہ ہے کہ اسقاط حمل کا فیصلہ عورت کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ اس موقف کے حامی ’پرو چوائس‘ یا اختیار کے حامی کہلاتے ہیں۔

سنہ سترہ سو چھہتر میں امریکہ کے قیام کے وقت اسقاط حمل پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

کیتھولک چرچ اور رپبلکن پارٹی نے اس میں ایک اہم کردار ادا کیا اور بیسویں صدی کے آغاز کے بعد زیادہ تر ریاستوں نے اسقاط حمل کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

پھر سنہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں یہ پتہ چلا کہ غیر قانونی طور پر حاملہ خواتین کی تعداد بارہ لاکھ سالانہ ہے جس پر کچھ ریاستوں نے اس معاملے میں ڈھیل دی اور سنہ انیس سو تہتر میں اسقاط حمل کو قانونی درجہ دے دیا گیا لیکن بعد میں پہلی سہ ماہی شروع ہونے کے بعد اسقاط حمل پر پابندی لگا دی گئی۔

امریکہ میں یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اور اس پر کھل کر اپنی رائے دینا سردرد مول لینے جیسا ہے۔ ہر بار کی طرح اس الیکشن میں بھی یہ کئی گھریلو مسائل میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔