سینڈی:بحالی کے عمل میں مشکلات، 90 سے زائد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 08:53 GMT 13:53 PST

بحالی کے عمل میں دشواری

جزیرہ سٹیٹن میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن عوام ناراض ہیں

ایندھن کی کمی اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی میں مشکلات کی وجہ سے شمال مشرقی امریکہ میں سمندری طوفان ’سینڈی‘ سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی بحالی کا عمل متاثر ہوا ہے۔

نیویارک اور نیوجرسی میں ایندھن حاصل کرنے کے لیے پیٹرول سٹیشنز پر جمع ہونے والے افراد میں جھگڑوں کی اطلاعات ہیں جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کچھ متاثرہ علاقوں میں گیارہ نومبر تک بجلی بحال نہیں ہو سکے گی۔


شمالی مشرقی امریکہ میں رواں ہفتے آنے والے سمندری طوفان کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سو کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ہلاک شدگان میں سے اڑتیس کا تعلق نیویارک شہر سے تھا جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔

طوفان گزرنے کے بعد اب بحالی کا عمل جاری ہے تاہم اب بھی بارہ ریاستوں میں پینتالیس لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں اور انہیں ایندھن کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

نیشنل گارڈ نیویارک کے رہائشیوں کو پکے ہوئے کھانوں کے پیکٹ اور پانی کی بوتلیں پہنچا رہے ہیں۔

امریکہ میں اس طوفان سے جزائر غرب الہند کے مقابلے میں زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جہاں انہتر افراد اس کا نشانہ بنے تھے۔

جزیرہ سٹیٹن کے نشیبی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں سمندری پانی کے خاصی تباہی مچائی ہے

امدادی کارکن اب بھی متاثرہ علاقوں خصوصاً جزیرہ سٹیٹن میں گھر گھر تلاشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیویارک کے اس جنوب مغربی علاقے سے اب تک کم از کم پندرہ لاشیں مل چکی ہیں۔

جزیرہ سٹیٹن کے نشیبی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں سمندری پانی کے خاصی تباہی مچائی ہے اور مکان اپنی بنیادوں سے اکھڑ گئے ہیں۔

تازہ اندازوں کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور پھر اس کے ازالے کا تخمینہ پچاس ارب ڈالر کے لگ بھگ لگایا گیا ہے جو کہ سابقہ اندازوں سے دوگنا ہے۔

نیویارک شہر اور ریاست نیوجرسی میں اب بھی متعدد پیٹرول پمپ بند ہیں اور جو پمپ کام کر رہے ہیں وہاں شہریوں کی طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

نیوجرسی میں ایک پیٹرول سٹیشن کے مالک نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ چھتیس گھنٹے سے مسلسل ایندھن فروخت کر رہے ہیں اور انہیں ہجوم کے مشتعل ہونے کی وجہ سے پولیس طلب کرنا پڑی ہے۔

نیویارک میں سڑکوں پر رش کم کرنے کے لیے مسافر ٹرینوں، سب ویز اور بسوں پر عارضی طور پر مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ مین ہٹن میں فی الحال صرف ایسی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جن میں تین یا اس سے زیادہ افراد سوار ہوں۔

ریل کمپنی ایم ٹریک نے اپنی ایسٹ کوسٹ سروس بھی جمعہ سے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مین ہٹن کے زیریں علاقے میں جہاں چودہ فٹ اونچی سمندری لہر نے علاقے کو ڈبو دیا تھا زیرِ زمین ریل سروس تاحال بند ہے اور ہزاروں مکانات بجلی سے محروم ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ نیویارک کے زیادہ تر علاقوں میں سنیچر تک بجلی بحال ہو جائے گی تاہم کچھ علاقوں میں اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بلوم برگ اوباما کے حامی

براک اوباما نے جمعرات کو نیوادا، کولوراڈو اور وسکونسن میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا

’سینڈی‘ کا نشانہ بنے والے نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں اوبامہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کی رائے میں اوباما عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سب سے بہتر امیدوار ہیں اور انہوں نے اس مسئلے پر قائدانہ صلاحیتیں دکھائی ہیں۔


براک اوباما کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بلوم برگ کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ ہم دونوں ہر معاملے پر متفق نہیں ہوتے لیکن میئر بلومبرگ اور میں اس وقت کے اہم ترین معاملے پر ہم خیال ہیں‘۔

براک اوباما نے تین روزہ تعطل کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے اپنی مہم جمعرات سے دوبارہ شروع کی۔انہوں نے سینڈی سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے اپنی مہم ملتوی کر دی تھی۔

رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مِٹ رومنی نے اپنی مہم بدھ کو ہی دوبارہ فلوریڈا کی اہم ریاست سے شروع کر دی تھی۔

امریکہ میں صدر کے عہدے کے لیے چھ نومبر کو انتخاب ہو گا اور یہ انتخابی مہم کا آخری ہفتہ ہے۔

براک اوباما نے طے شدہ منصوبے کے مطابق جمعرات کو نیوادا، کولوراڈو اور وسکونسن میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا اور انہوں نے اپنے ووٹرز سے کہا کہ وہ ان کے مخالف کی باتوں میں نہ آئیں جو موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔

دونوں امیدوار جمعہ کو جاری ہونے والے بیروزگاری سے متعلق تازہ اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔ گزشتہ ماہ کی رپورٹ کے مطابق کئی برس میں پہلی بار امریکہ میں شرحِ بیروزگاری آٹھ فیصد سے کم ہوئی تھی۔

تیس اکتوبر کے عوامی جائزوں کے مطابق دونوں امیدواروں کو انچاس انچاس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے اور صدارتی انتخاب میں کانٹے کے مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کی سروے کے مطابق دس میں سے آٹھ لوگوں نے سینڈی طوفان سے پیدا ہونے والی ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے پر صدر براک اوبامہ کو’بہت خوب‘ یا ’اچھا‘ کہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔