’شامی فوجیوں کا قتل جنگی جرم کے مترادف‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 10:00 GMT 15:00 PST

باغیوں نے مبینہ طور پر ایک درجن فوجیوں کو پکڑنے کے بعد قتل کر دیا

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شام میں باغیوں کی جانب سے فوجیوں کو قتل کرنے کے واقعے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ممکنہ طور پر جنگی جرم کے مترادف ہو گا۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو سے بظاہر پتہ چلتا ہے کہ باغیوں نے شام کے کچھ فوجیوں کو پکڑنے کے بعد فائرنگ کر کے بے رحمی سے ہلاک کر دیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ترجمان ناوی پلے کا کہنا ہے کہ’اس کا بہت امکان ہے کہ یہ ایک جنگی جرم لگتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ اگر اس ویڈیو کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اسے قانونی کارروائی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ہونے والے اس وا‏قعے کی اگر تصدیق ہوئی تو اسے جنگی جرائم میں شمار کیا جائےگا۔

اطلاعات کے مطابق دمشق اور حلب کے درمیان ایک فوجی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کے بعد باغیوں نے پکڑے گئے فوجیوں کو مبینہ طور پرگولی مار دی۔

ویڈیو میں بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ قبضہ کی گئی ایک چیک پوسٹ کے اندر باغی تقریباً ایک درجن فوجیوں کو زمین پر لاتوں سے مار مار کر دھکیل رہے ہیں۔ اس کے فورا بعد ان خوفزدہ افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی جاتی ہے۔

ایمنسٹی نے اس سے متعلق ایک بیان میں کہا ’یہ درد ناک فوٹیج جنگی جرائم کے ارتکاب کا منظر پیش کرتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسلح گروپ کس سختی سے عالمی انسانی حقوق کی پامالیاں کر رہے ہیں‘۔

" یہ درد ناک فوٹیج جنگی جرائم کے ارتکاب کا منظر پیش کرتا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسلح گروپ کس سختی سے عالمی انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ہیں۔"

ایمنسٹی

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ شام کے انقلاب کو سخت گیر اسلامی گرپ ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابھی تک ان ہلاکتوں کے لیے کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن پڑوسی ملک لبنان میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ سخت گیر اسلامی گروپ ’النصر فرنٹ‘ پر اس کارروائی کی ذمہ داری عائد کی جا رہی ہے۔

ادھر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے باغیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے اور حکومت کے ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں نے دمشق اور اس کے قرب و جوار میں کئی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

گزشتہ کچھ ہفتوں سے شام کی فوج نے جنگی طیاروں کے استعمال میں اضافہ کیا ہے جبکہ زمینی افواج باغیوں پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو پائی ہے۔

برطانیہ میں موجود شامی کارکنان کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز شام کے مختلف علاقوں میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثناء عرب لیگ نے اعلان کیا ہے کہ شام کے مسئلے پر روس کے وزیر خارجہ، بین الاقوامی امن ایلچی اخضر ابراہیمی اور عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری نبیل ال عربی سنیچر کو قاہرہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔