امریکی الیکشن کے دلچسپ حقائق

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 05:58 GMT 10:58 PST

امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بارے میں کچھ ایسی معلومات ہیں جنہیں جان کر آپ چونک جائیں گے۔ یہاں امریکی انتخابات کے بارے میں ایسے ہی کچھ حقائق دیے جا رہے ہیں۔

انتخابات ہمیشہ منگل کو ہی کیوں ہوتے ہیں؟

امریکہ میں ووٹنگ کی شرح جمہوری ممالک کے حساب سے بہت کم ہے اور ووٹ نہ ڈالنے والے افراد میں سے پچیس فیصد سے زائد کے مطابق ان کے پاس ووٹ ڈالنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

تاہم اس کے باوجود صدارتی انتخاب کو اختتامِ ہفتہ پر منعقد کروانے کی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب ہمیشہ نومبر کے پہلے منگل کو منعقد ہوتا ہے۔ اس رسم کا آغاز سنہ اٹھارہ سو پینتالیس میں ہوا تھا اور تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

درحقیقت انیسویں صدی میں امریکہ ایک زرعی ملک تھا اور کسانوں کو اپنی گھوڑا گاڑیوں پر بیٹھ کر قریبی پولنگ بوتھ تک پہنچنے میں بھی کافی وقت لگتا تھا۔

سنیچر کو وہ کام کر رہے ہوتے تھے اور اتوار کو چل کر پیر کو ووٹ دینے کے لیے پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

بدھ کو مارکیٹ میں اناج بیچنے کا دن ہوتا تھا اور پھر کسانوں کو واپس لوٹنا ہوتا تھا۔

ایسے میں ایک ہی دن بچتا تھا جو تھا منگل۔ اسی لیے اس دن پولنگ کی روایت قائم ہوئی ہے۔

کالے چشمے کا کھیل

امریکہ میں دھوپ کا چشمہ پہنے سياستدان کی تصویر کھینچنا تقریباً ناممکن ہے۔ وہاں لوگ اپنے رہنماؤں سے نظر ملا کر بات کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اوباما یا بش کو کالے چشمے میں دیکھا ہے؟

شاید امریکی سمجھتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی آنکھیں ڈھكي ہیں تو اس پر زیادہ یقین نہیں کیا جا سکتا۔

کسی کو بھی نہ چننے کا اختیار

امریکی ریاست نیوادا میں ووٹرز کے پاس دونوں امیدواروں میں سے’ کسی ایک کو بھی نہیں‘ ووٹ دینے کا اختیار موجود ہے۔

وہاں ووٹر بیلٹ پیپر پر دیے گئے ناموں میں سے اگر کسی کو بھی پسند نہ کریں تو وہ ’نن آف دی کینڈیڈیٹس‘ یعنی ’ کسی امیدوار کے لیے نہیں‘ کی آپشن منتخب کر سکتے ہیں۔

بیلٹ پیپر پر یہ آپشن سنہ انیس سو چھہتر سے موجود ہے۔

خطاب عمر بھر کے لیے

امریکہ میں ایک عجیب رسم ہے۔مٹ رومني چھ سال پہلے میساچيوسٹس کے گورنر کا عہدہ چھوڑ چکے ہیں لیکن آپ نے دیکھا اور سنا ہوگا کہ انہیں ہر کوئی گورنر رومني کہہ کر بلاتا ہے جیسے کہ یہ کوئی خطاب ہو۔

امریکہ میں ایک وقت میں ایک ہی صدر ہوتا ہے لیکن آپ امریکہ میں لوگوں کو ایک ہی جملے میں صدر اوباما، صدر بش اور صدر کلنٹن کہتا سن سکتے ہیں۔

مصنف ڈینیئل پوسٹ سیننگ اس بارے میں کہتے ہیں، ’یہ ہمارے سماج میں ان عہدوں کے وقار کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم جمہوری ہیں۔ یہ سب بہت ہی اہم عہدے ہیں اسی لیے یہ کسی پیشہ وارانہ خطاب جیسا بن جاتا ہے‘۔

ان کے مطابق ’یہ کسی جج یا ڈاکٹر کے ریٹائر ہونے جیسا ہے۔ یہ لوگ بھی تو ملازمت چھوڑنے کے بعد بھی جج یا ڈاکٹر ہی کہلاتے ہیں‘۔

کم ووٹوں کے باوجود جیت ممکن

امریکی تاریخ میں چار صدور اپنے مدِمقابل امیدوار سے کم ووٹ حاصل کرنے کے باوجود صدر بنے ہیں۔ اس کی وجہ صدر بننے کے لیے’الیكٹورل ووٹ‘ کی اکثریت کا حصول لازم قرار دیا جانا ہے۔

صدارتی انتخاب میں جو بھی امیدوار دو سو ستّر الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیتا ہے، صدر بن جاتا ہے۔

ہر امریکی ریاست کے اس کی آبادی کے حساب سے ’الیكٹورل ووٹ‘ طے ہیں اور یہ سارے کے سارے اسی امیدوار کو دیے جاتے ہیں جو ریاست میں عام چناؤ میں برتری حاصل کرتا ہے۔

ماضی قریب میں سنہ 2000 کے صدارتی الیکشن میں الگور نے جارج بش سے پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن وہ الیكٹورل ووٹوں کی گنتی میں پیچھے رہ گئے اور کچھ ماہرین کے مطابق اس مرتبہ ایک بار پھر ایسا ہو سکتا ہے۔

صدر رومنی تو نائب صدر بائیڈن

یہ بھی ممکن ہے کہ صدارتی انتخاب میں دونوں امیدواروں کو برابر الیكٹورل ووٹ ملیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا ہوگا؟

ایسی صورت میں صدر کا انتخاب امریکہ کا ایوان نمائندگان کرتا ہے۔

اگر موجودہ الیکشن پر اس صورتحال کو لاگو کیا جائے تو ایک دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔

اگر مٹ رومنی اور براک اوباما نے برابر الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تو صدر کا فیصلہ ایوانِ نمائندگان کرے گا جہاں اس وقت رپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے تو ایسے میں رومني بازی مار جائیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں نائب صدر کے انتخاب کا حق سینیٹ کے پاس ہوتا ہے جہاں ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت میں ہے اس لیے برابری کی صورت میں رومني صدر تو بن جائیں گے لیکن انہیں ڈیموکریٹک نائب صدر یعنی جو بائیڈن کو برداشت کرنا پڑے گا۔

صرف ایک تہائی امریکہ ہی اہم

چھ نومبر کو ہونے والے انتخابات کا نتیجہ دراصل امریکہ کی ایک تہائی آبادی ہی طے کرے گی۔

امریکہ کی چار سب سے بڑی آبادی والے ریاستیں یا تو مکمل طور پر رپبلکن پارٹی کے ساتھ ہیں یا ڈیموكریٹك پارٹی کے ساتھ۔ یہاں تک کہ صدارتی امیدوار ان ریاستوں میں انتخابی مہم تک نہیں چلا رہے ہیں۔

ٹیکساس، جارجیا، نیویارک، الینائے اور دیگر پینتیس محفوظ ریاستوں کے سّتر فیصد رائے دہندگان کا رجحان واضح ہے کیونکہ یہاں پہلے سے ہی پتہ ہے کہ کون ریاست کس کے ساتھ ہے۔

اس لیے ان ووٹرز کا ووٹ گنا تو جائے گا لیکن صدارتی انتخاب کا نتیجہ ان تیس فیصد امریکی ووٹروں پر ہی منحصر ہوگا جو ان ریاستوں میں رہتے ہیں جنہیں ’سوئنگ سٹیٹس‘ یا ڈانواڈول ریاستیں کہا جاتا ہے۔

نارتھ ڈکوٹا میں بغیر رجسٹریشن کے ووٹ

اور آخر میں نارتھ ڈکوٹا ایسی اكلوتی امریکی ریاست ہے جہاں ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹریشن نہیں کروانی پڑتی۔ ریاست میں سنہ انیس سو اکیاون میں رجسٹریشن کا عمل منسوخ کر دیا گیا تھا.

یہاں ووٹ ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اٹھارہ سال یا اس سے بڑے امریکی شہری ہوں جو ریاست میں تیس دن سے قیام پذیر ہو۔

ریاست میں ووٹنگ کے لیے چھوٹے چھوٹے یونٹ بنائے جاتے ہیں جہاں انتخابی عملہ عموماً ہر اس شخص کو ذاتی طور پر جانتا ہے جو وہاں ووٹ ڈالنے آئے گا۔

ریاست کے سیکرٹری داخلہ ایل جیگر کے مطابق اگر کسی شخص کو عملہ شناخت نہیں کر پاتا تو اسے اپنی شناختی دستاویز دکھانا پڑتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔