امریکی انتخابات: مزید مسائل پر ووٹنگ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 14:38 GMT 19:38 PST

منگل کو جب امریکی ووٹ ڈالیں گے تو وہ نہ صرف صدر اور کانگریس کے اراکین کا انتخاب کر رہے ہوں گے بلکہ چند اہم مسائل کے بارے میں بھی فیصلہ کر رہے ہوں گے۔ اڑتیس ریاستوں میں ایک سو چوہتّر سوالات ہیں جن میں سے کچھ تو امریکی سماج کے اہم ترین مسائل کو چھوتے ہیں ان کے بارے میں وہ اس انتخابات میں فیصلہ کر رہے ہوں گے۔

1۔ گانجہ

گانجہ

امریکہ کی تین ریاستیں آریگن، واشنگٹن اور کولوراڈو میں اس بات کے لیے ووٹ ڈالے جار ہے ہیں کہ کیا تفریح کے لیے گانجے کی فروخت کو قانونی درجہ دیا جائے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی سترہ ریاستوں میں طبی استعمال کے لیے اس کی فروخت کی اجازت ہے۔

اس ووٹنگ کا مقصد ہے کہ گانجے کو اسی طرح سے فروخت کیا جائے جیسے شراب اور سگریٹ فروخت کی جاتی ہے یعنی اکیس سال یا اس سے زیادہ کی عمر کے کسی بھی فرد کو دی جا سکتی ہے۔

اس کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ اس سے جہاں ریاست کو لاکھوں ڈالر کی آمدنی ہوگی وہیں عدالتوں اور جیلوں میں زیادہ سخت جرائم کے لیے جگہ خالی ہوگی۔

اس کے برعکس اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک دوا ہے اور جو ریاست بھی اسے منظور کرتا ہے اس کا وفاقی قانون سے ٹکراؤ ہوگا اور وفاقی قانون کو ریاستی قانون پر برتری حاصل ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ واشنگٹن اور کولوراڈو میں اسے منظور کر لیا جائے گا۔

2۔ ہم جنس شادی

ہم جنس شادی

انتخاب کے دن مین، میری لینڈ، مینیسوٹا اور واشنگٹن میں ہم جنس شادی کے بارے میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مین ریاست میں پہلی بار یا سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ہم جنس شادی کو جائز قرار دیا جائے۔

میری لینڈ والے اس انتخاب میں یہ فیصلہ کریں گے کہ ریاست کے ذریعے ہم جنسوں کی شادی کی اجازت کے قانون کو برقرار رکھا جائے یا اسے ختم کر دیا جائے۔

امریکہ کی اکتیس ریاستوں نے آئین میں ترمیم کر کے ہم جنس شادی پر پابندی لگائی ہے جبکہ نو ریاستوں نے اسے قانونی طور پر جائز قرار دیا ہے۔

جولائی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پہلے کی نسبت زیادہ لوگ اب ہم جنس شادی کے حق میں ہیں اور یہ تبدیلی گذشتہ دس برسوں میں آئی ہے۔

3۔ جی ایم فوڈز

جی ایم فوڈ

کیلیفورنیا ریاست کے ووٹر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ تمام چیزوں پر اس کی اطلاع دی جائے یا نہیں۔

کیلیفورنیا کے قانون میں شامل پروپوزیشن سینتیس میں اس بات کا ذکر ہے اور اس پر کافی اختلاف ہے۔ اس کی مہم پر پانچ کروڑ امریکی ڈالر صرف کیا گیا ہے۔ زراعتی تجارت سے منسلک کمپنیاں اس کے خلاف ہیں۔

جو ان کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اس چیز کے بارے میں جانے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں پچاس سے زائد ایسے ممالک ہیں جہاں یہ کھانے کی چیزوں پر یہ لیبل ہوتا ہے۔

اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور کسی چیز پر جی ایم فوڈ کا لیبل لگانے سے عوام یہ تاثر جائے گا کہ اس کا کھانا غیر محفوظ ہے۔

اس سے قبل امریکہ کی اٹھارہ ریاستوں نے جی ایم کا لیبل لگانے کی کوشش کی ہے لیکن تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔

سینڈیاگو کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر تھڈ کوثر نے کہا کہ اسے انتخابی بیلیٹ میں شامل کروانے کے لیے کیرولائنا میں دس لاکھ سے زیادہ دستخط لیے گئے اور اس بارے میں اب سب سے زیادہ باتیں ہو رہی ہیں۔

4۔ سزائے موت

سزائے موت

کیلیفورنیا ریاست کے لوگ سزائے موت کو ختم کرنے کی ایک تجویز کے لیے بھی ووٹ کریں گے جسے بدل کر تاحیات قید کی سزا دی جائے جس میں کوئی پرول یعنی چھٹی نہ ہو۔

ابھی کیلیفورنیا میں سات سو پچیس ایسے افراد ہیں جنہیں سزائے موت سنائی گئی جو کہ امریکہ کی کسی دوسری ریاست کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔ اگر یہ تجویز منظور کر لی گئی تو ان کی موت کی سزا عمر قید میں تبدیل ہو جائے گی۔

اس تجویز کے مطابق قیدیوں کو کام کرنا پڑے گا اور اس کا کچھ حصہ متاثرین کو دیا جائے گا۔ اس تجویز کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست کے پیسے بچیں گے کیونکہ سزائے موت کی اپیل پر کافی خرچ آتے ہیں۔

اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ چند جرائم کی سزا تو سزائے موت ہونی ہی چاہیے اور وہ ان اعدادوشمار کو غلط کہتے ہیں۔

اس بارے میں کیے جانے والے جائزوں کے مطابق لوگ کثیر تعداد میں اس کے حق میں ووٹ کریں گے۔

5۔ اسقاط حمل

ریاستی قانون ساز کی قومی کانفرنس کی بیلٹ تجاویز کی ماہر جینی ڈریگ بوزر کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کا مسئلہ مستقل مسئلہ ہے۔ سنہ انیس سو ستّر کی دہائی سے اسقاط حمل کے سلسلے سے سینتیس بیلٹ تجاویز آ چکی ہیں۔

اس سال مونٹانا میں اس بات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں کہ ایسی صورت میں جب سولہ سال سے کم ہمر لڑکی اسقاط حمل کروانا چاہ رہی ہے تو کیا ان کے والدین کو اس کی خبر دی جائے یا نہیں۔ (یہ مسئلہ امریکہ کے زیادہ تر ریاستوں میں ہے)۔

اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل ایک سنگین آپریشن ہوتا ہے اور اسے کسی سولہ سال کی لڑکی پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس لیے ان کے والدین کو اس کی خبر ہونا ضروری ہے۔

اس عمل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر وہ لڑکی گھر پر ہی جنسی تشدد کا شکار ہے تو ایسے میں اس قسم کی اطلاع اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

فلوریڈا میں اس بارے میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے کہ اسقاط حمل کے معاملے میں سرکاری پیسہ خرچ کیا جانا چاہیے یا نہیں (جنسی تشدد، رشتے دار کے ذریعے قائم کیے گئے جنسی تعلق اور ماں کو لاحق خطرے کو چھوڑ کر)۔

اگر یہ منظور ہو جاتا ہے تو ریاستی ملازموں کے صحت کے تحفظ میں اسقاط حمل شامل نہیں ہوگا۔

6۔ فلورائڈ

فلورائڈ

کنساس کے وٹشیٹا شہر کے لوگ اس بات کے لیے بھی ووٹ ڈالیں گے کہ آیا شہر کے پانی میں فلورائڈ شامل کیا جائے یا نہیں۔

اس کو تجاویز میں شامل کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ دانتوں کی خرابی کو کم کرنے کا سستا اور مؤثر طریقہ ہے اور امریکہ میں یہ برسوں سے رائج ہے اور اسے امراض کی روک تھام کے شعبے سے بھی منظوری حاصل ہے۔

اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک طرح سے زبردستی دوا دینے کے مطابق ہے اور پانی میں فلورائڈ ملانے کا مطلب شہریوں کی زندگی میں زیادہ مداخلت ہے۔

وٹشیٹا یونیورسٹی میں علم سیاسیات کے پروفیسر کین سیباکسی کا کہنا ہے کہ انیس سو چونسٹھ میں کرائے گئے ایک ریفرنڈم میں وٹشیٹا کے لوگوں نے اس کو نامنظور کر دیا تھا اور آج یہ ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلنے کا یہ ایک بڑا محرک ہوگا کیونکہ لوگ اس کے بارے میں کافی حساس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار پھر سے لوگ اسے خارج کر دیں گے۔

7۔ تجدیدکاری

تجدیدکار

سنہ دوہزار پچیس تک میشیگن کی کم سے کم پچیس فی صد بجلی تجدیدکاری کے ذرائع سے حاصل ہوگی اگر ووٹ ڈالنے والے اس بیلٹ تجویز کی حمایت کر تے ہیں۔

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو آئین میں ایک ترمیم کرنی ہوگی اور میشیگن امریکہ کی پہلی ریاست ہوگی جہاں رینیوایبلز یعنی تجدیدکار کی ایک کم سے کم سطح برقرار رکھنی ہوگی۔

اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ میشیگن سبز توانائی کی صنعت کا مرکز بن جائے گا اور ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس کے مخالفین جس میں توانائی کی بڑی کمپنیاں اور کاروبار شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور اس میں شامل آئینی ترمیم کی وجہ سے اس کا واپس لینا اور اس میں ترمیم کرنا مشکا ہوگا۔

8۔ خودکشی میں تعاون

میساچسٹس کے ووٹر ایک ایسی تجویز پر بھی ووٹ ڈالیں گے جس کے ذریعے ڈاکٹروں کو یہ اجازت حاصل ہوگی کہ وہ لاعلاج اور مستقل بیمار مریضوں کو زندگی ختم کرنے کی دوائیں دیں چاہے اس مریض کو چھ ماہ سے کم زندہ رہنے کی ہی امید کیوں نہ ہو اور وہ اس حالت میں ہو کہ وہ فیصلہ لے سکے اور مرنے کی خواہش ظاہر کی ہو۔

اس تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے اس شخص کو باعزت مرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔

اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ کسی شخص کی زندگی کو ختم کرنے میں تعاون کرنا غلط ہے۔

رائے شماری کے جائزے کے مطابق یہ تجویز منظور کر لی جائے گی۔ آریگن نے اسی قسم کی ایک تجویز پندرہ سال قبل منظور کی تھی اور واشنگٹن نے دوہزارآٹھ میں اسے منظوری دی تھی۔

9۔ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان پل

پل

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ایک اور پل کی تعمیر پر کافی تنازعہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جو پل ہے وہ مصروف ترین تجارتی راستہ ہے۔

کینیڈا کی حکومت ڈٹرائٹ سے ونڈسر کو ملانے کا خواہش مند ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ موجودہ راستہ اکثر زیادہ ٹریفک کے باعث جام رہتا ہے اور مستقبل کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا ہے۔

جون میں ہونے والے ایک معاہدے میں کینیڈا کی حکومت نے اس میں سرمایہ کاری کے لیے بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

اس نئے پل کو میشیگن کے ریپبلیکن گورنر رک اسنائڈر کے ساتھ ساتھ بہت سے بڑے تاجروں کی حمایت حاصل ہے۔

اس کی مخالفین میں مینوئل ’میٹی‘ میرن شامل ہیں، یہ ارب پتی تاجر موجودہ پل کے مالک ہیں۔

10۔ کسینوز

کسینوز

میری لینڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور معاشیات کی ماہر ملیسا ایس کیرنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جوئے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے اور اس کو سختی کے ساتھ چلایا جاتا ہے لیکن اس میں گذشتہ تیس سالوں میں کافی پھیلاؤ آیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی ریاست کے لیے اس کے ذریعے پیسہ اکٹھا کرنا ایک آسان طریقہ ہوگا اور ٹیکس میں اضافے کے بجائے یہ کم متناز‏عہ راستہ ہے۔

اس سال میری لینڈ کے ووٹروں سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وہ ریاست میں جوئے میں اضافہ چاہتے ہیں جس کے تحت پوکر جیسے گیم کو پہلی بار اجازت دی جائے گی اور ایک نئے کسینو کو منظوری ملے گی۔

اس کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے ہونے والی آمدنی سے تعلیم کے شعبے میں فنڈنگ ہوگی۔

اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے کسینو کے اطراف میں جرائم میں اضافہ ہوگا۔

آریگن میں ووٹروں سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ ریاست میں کسینوز پر لگی پابندی کو ہٹایا جائے یا نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔