نیو یارک: سینڈی کے بعد میراتھن دوڑ منسوخ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 15:39 GMT 20:39 PST

ایندھن حاصل کرنے کے لیے پیٹرول سٹیشنز پر جمع ہونے والے افراد میں جھگڑوں کی اطلاعات ہیں

امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں میں سمندری طوفان سینڈی کے چار روز بعد بھی لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہیں جب کہ ایندھن کی قلت کے باعث عوام کے غصے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اب تک طوفان کے باعث چھیانوے افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جن میں سے چالیس افراد نیویارک میں مارے گئے۔

پیٹرول سٹیشنوں پر ایندھن کے حصول کے لیے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئیں ہیں۔

اس کے علاوہ سمندری طوفان سے متاثرہ شہر نیویارک میں اتوار کو میراتھن ریس منسوخ کر دی گئی ہے۔

میئر بلومبرگ نے ریس کو ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ہم نہیں چاہتے کہ اس دوڑ یا اس کے شرکا پر کوئی منفی اثر ہو چنانچہ ہم نے اسے منسوخ کر دیا ہے۔‘

اس دوڑ کو سینڈی طوفان کے پس منظر میں منعقد کرنے کے فیصلے پر بھی خاصی تنقید کی جا رہی تھی۔ نیویارک میں یہ ریس سمندری طوفان سے بری طرح متاثرہ علاقے جزیرہِ سٹیٹن سے شروع ہونی تھی۔

میئر کا کہنا تھا کہ ’البتہ اس ریس کے انعقاد کرنے کے لیے امدادی کارروائیوں کے کسی بھی وسائل کی ضرورت نہیں مگر یہ واضح ہے کہ یہ معاملہ تنازع اور تضاد کی بنیاد بن رہا ہے۔ ہم کھیلوں کی ایک تقریب پر تنازعے کی وجہ سے اپنے شہر کی بحالی کے اہم کام سے توجہ نہیں ہٹا سکتے۔‘

ادھر ایندھن کی کمی اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی میں مشکلات کی وجہ سے شمال مشرقی امریکہ میں سمندری طوفان سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

نیویارک اور نیوجرسی میں ایندھن حاصل کرنے کے لیے پیٹرول سٹیشنز پر جمع ہونے والے افراد میں جھگڑوں کی اطلاعات ہیں جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کچھ متاثرہ علاقوں میں گیارہ نومبر تک بجلی بحال نہیں ہو سکے گی۔

طوفان گزرنے کے چار روز بعد اب بحالی کا عمل جاری ہے تاہم اب بھی بارہ ریاستوں میں پینتالیس لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں اور انہیں ایندھن کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

نیشنل گارڈ نیویارک کے رہائشیوں کو پکے ہوئے کھانوں کے پیکٹ اور پانی کی بوتلیں پہنچا رہے ہیں۔

امریکہ میں اس طوفان سے جزائر غرب الہند کے مقابلے میں زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جہاں انہتر افراد اس کا نشانہ بنے تھے۔

پیٹرول سٹیشنز پر ایندھن کے حصول کے لیے انے والے افراد کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں ہیں

امدادی کارکن اب بھی متاثرہ علاقوں خصوصاً جزیرہ سٹیٹن میں گھر گھر تلاشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نیویارک کے اس جنوب مغربی علاقے سے اب تک کم از کم پندرہ لاشیں ملی ہیں۔

جزیرہ سٹیٹن کے نشیبی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں سمندری پانی کے خاصی تباہی مچائی ہے اور مکان اپنی بنیادوں سے اکھڑ گئے ہیں۔

تازہ اندازوں کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور پھر اس کے ازالے کا تخمینہ پچاس ارب ڈالر کے لگ بھگ لگایا گیا ہے جو کہ سابقہ اندازوں سے دوگنا ہے۔

نیویارک شہر اور ریاست نیوجرسی میں اب بھی متعدد پیٹرول پمپ بند ہیں اور جو پمپ کام کر رہے ہیں وہاں شہریوں کی طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

نیوجرسی میں ایک پیٹرول سٹیشن کے مالک نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ چھتیس گھنٹے سے مسلسل ایندھن فروخت کر رہے ہیں اور انہیں ہجوم کے مشتعل ہونے کی وجہ سے پولیس طلب کرنا پڑی ہے۔

نیویارک میں سڑکوں پر رش کم کرنے کے لیے مسافر ٹرینوں، سب ویز اور بسوں پر عارضی طور پر مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ مین ہٹن میں فی الحال صرف ایسی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جن میں تین یا اس سے زیادہ افراد سوار ہوں۔

ریل کمپنی ایم ٹریک نے اپنی ایسٹ کوسٹ سروس بھی جمعہ سے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مین ہٹن کے زیریں علاقے میں جہاں چودہ فٹ اونچی سمندری لہر نے علاقے کو ڈبو دیا تھا زیرِ زمین ریل سروس تاحال بند ہے اور ہزاروں مکانات بجلی سے محروم ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ نیویارک کے زیادہ تر علاقوں میں سنیچر تک بجلی بحال ہو جائے گی تاہم کچھ علاقوں میں اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بلوم برگ اوباما کے حامی

براک اوباما نے تین روزہ تعطل کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے اپنی مہم جمعرات سے دوبارہ شروع کی

’سینڈی‘ کا نشانہ بنے والے نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار اور موجودہ صدر براک اوباما کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اوباما کا ساتھ دینے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کی رائے میں اوباما عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سب سے بہتر امیدوار ہیں اور انہوں نے اس مسئلے پر قائدانہ صلاحیتیں دکھائی ہیں۔

بلومبرگ ماضی میں ری بپلکن جماعت کے حامی تھے تاہم اب وہ سیاسی اعتبار سے آزاد گنے جاتے ہیں۔ وہ ماضی میں اوباما اور ان کے ری پبلکن حریف مٹ رومنی کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

براک اوباما نے تین روزہ تعطل کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے اپنی مہم جمعرات سے دوبارہ شروع کی۔انہوں نے سینڈی سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے اپنی مہم ملتوی کر دی تھی۔

ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مِٹ رومنی نے اپنی مہم بدھ کو ہی فلوریڈا کی اہم ریاست سے دوبارہ شروع کر دی تھی۔

امریکہ میں صدر کے عہدے کے لیے چھ نومبر کو انتخاب ہو گا اور یہ انتخابی مہم کا آخری ہفتہ ہے۔

تیس اکتوبر کے عوامی جائزوں کے مطابق دونوں امیدواروں کو انچاس انچاس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے اور صدارتی انتخاب میں کانٹے کے مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کی سروے کے مطابق دس میں سے آٹھ لوگوں نے سینڈی طوفان سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے پر صدر براک اوبامہ کو’بہت خوب‘ یا ’اچھا‘ کہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔