کیا چین مغرب سے زیادہ جمہوری ہے؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 13:13 GMT 18:13 PST
چین

چین میں جمعرات کو نئے صدر اور وزیر اعظم کے انتخابات ہو رہے ہیں۔

آئندہ ہفتے چین اور امریکہ کے لوگ دو مختلف طریقوں سے اپنے اپنے رہنما کا انتخاب کرنے والے ہیں۔

بی بی سی کے مارٹن جیکس کا سوال ہے کہ کیا لاکھوں لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والا امیدوار زیادہ جائز انتخاب ہے یا چند منتخب لوگوں کے ذریعے نامزد امیدوار؟

اس ہفتے کے اختتام تک ایک دوسرے سے بالکل مختلف واقعات لوگوں کے سامنے ہوں گے۔

منگل کو امریکی صدر کا انتخاب ہوگا اور اس کے دو دنوں کے بعد چینی کمیونسٹ پارٹی کی اٹھارہویں کانگریس چین کے نئے صدر اور وزیر اعظم کا انتخاب کرے گی۔اس سے زیادہ تضاد شاید ہی کہیں اور نظر آئے۔

کروڑوں کی تعداد میں امریکی ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے جبکہ چین میں انتخاب کا عمل بند کمرے میں ہوگا اور اس میں گنے چنے لوگ ہی شامل ہوں گے۔

شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ’جمہوریت کے معاملے میں امریکہ اپنی بلندیوں پر ہے اور چین میں اس کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ چین کا سر درد اس کی حکومت کا طریقۂ کار ہے اور یہ چین کے زوال کا سبب ہوگا۔‘

لیکن میں اس سے اتقاق نہیں رکھتا۔ شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ مغربی طرز پر کسی ملک یا حکومت کے اختیار کا جواز جمہوریت پر مبنی ہے۔ لیکن اس میں جمہوریت صرف ایک جز ہے اور جمہوریت اپنے آپ میں کسی چیز کا جواز نہیں ہے۔

اٹلی کی مثال لے لیں جہاں ہمیشہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں لیکن اس کی حکومت کا یہ مسئلہ ہے کہ اسے جواز حاصل نہیں ہے کیونکہ اس کی نصف آبادی اس میں یقین نہیں رکھتی۔

"چینیوں کے لیے ان کی تہذیب اہمیت رکھتی ہے جب کہ مغربی دنیا کے لیے قومیت۔ چین کے لیے اہم ترین سیاسی اقدار چین کی تہذیبی مملکت کی خود مختاری اور اتحاد ہے"

چین میں حکومت یا ریاست کا جواز مغربی سماج کی تاریخ اور تجربے کے برعکس ہے۔ میں نے اس سے قبل بھی یہ کہا ہے کہ چین کا معاملہ مختلف ہے وہ ’خود مختار قومیت پر مبنی ریاست‘ کی بجائے ’خودمختار تہذیب پر مبنی ریاست‘ ہے۔ بہ الفاظ دیگر چینیوں کے لیے ان کی تہذیب اہمیت رکھتی ہے جب کہ مغربی دنیا کے لیے قومیت۔ چین کے لیے اہم ترین سیاسی اقدار چین کی تہذیبی مملکت کی خود مختاری اور اتحاد ہے۔

اس ملک کی وسعت اور رنگا رنگی کے پیش نظر یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اٹھارہ سو چالیس کی دہائی سے لے کر انیس سو انچاس کے دوران سو سال تک چین نوآبادیاتی طاقتوں کے زیر قبضہ تھا اور ٹکڑوں میں منقسم تھا۔ چین کے لوگ اس عہد کو اپنی بے عزتی کا دور کہتے ہیں۔

وہ حکومت کو چینی ثقافت کا ضامن اور حصہ سمجھتے ہیں۔ پورے ملک کے اتحاد کو قائم رکھنا سب کا فرض ہے اور جو حکومت اسے قائم رکھنے میں ناکام رہے گی وہ ختم ہو جائے گی۔ تاریخ میں اس کی کئی مثالیں بھی ہیں۔ لیکن کیا چین کی عوام کی نظر میں ان کی حکومت جائز ہے؟

ہاروڈ کے کینڈی سکول کے ٹونی سائچ کے جائزے کے مطابق اسّی سے پچانوے فی صد چینی اپنے مرکزی حکومت سے مطمیئن ہیں۔

یا پھر امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹر کے رویوں کے بارے میں ایک عالمی جائزے کو ہی لے لیں جسے عالمی سطح پر کافی اہمیت دی جاتی ہے، اس کے مطابق دو ہزار دس میں اکیانوے فی صد چینیوں نے کہا تھا کہ معیشت کو چلانے کے معاملے میں ان کی حکومت درست ہے۔ (برطانیہ کے صرف پینتالیس فی صد لوگ اپنی حکومت کے بارے میں ایسا خیال رکھتے ہیں)۔

سوپر مارکٹ

چینی معیشت نے گذشتہ تیس برسوں سے دس فیصد سالانہ ترقی کی شرح برقرار رکھی ہے۔

اس قدر زیادہ اطمینان کا مطلب یہ نہیں کہ چین میں اختلافات نہیں ہیں۔ اس کے بالمقابل چین میں مظاہروں کے بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں۔

مثال کےطور پر گوانگڈونگ صوبے میں دوہزا دس اور دو ہزار گیارہ میں تنخوا میں اضافے کے لیے شدید مظاہرے ہوئے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ عوامی مظاہرے ہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مظاہرے میں کسان مقامی حکام کی جانب سے ان کی زمینیں لینے پر احتجاج کرتے ہیں۔

لیکن ان باتوں کی وجہ سے مرکزی حکومت کے خلاف لوگوں میں عدم اطمینان نہیں ہوتا۔

لیکن اگر چین کی حکومت کو عوام کی اس قدر حمایت حاصل ہے تو پھر کیوں وہ اس قدر گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے کہ پریس اور انٹرنٹ پر پابندی لگاتی رہتی ہے اور وقتاً فوقتاً مخالفین اور دوسرے لوگوں کی گرفتاریاں کرواتی رہتی ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ چین کی تمام حکومتوں نے یہی رویہ اپنائے رکھا ہے۔ آخر کیوں؟

اس کا جواب یہ ہےکہ چین بہت وسیع ملک ہے اور یہاں حکوت کرنا مشکل کام ہے وہ لوگ ہمیشہ مضطرب اور کسی نادیدہ چیز سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ عدم استحکام پیداکرنے والے عوامل پر نظر رکھنا ہمیشہ سے اچھی حکومتوں کی حکمت عملی رہی ہے۔

"اگر انفراسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچوں کی بات کریں جسے مغرب نے اب آکر تسلیم کیا ہے اس معاملے میں چین کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کے ریل کا نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے اور جلد ہی ساری دنیا کے مقابلے زیادہ وسیع ہونے جا رہا ہے"

اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ حکومت کے تئیں عالمی اور بطور خاص مغرب کے مقابلے چین کے لوگوں کا رویہ مختلف رہا ہے۔ عالمی سطح پر اگر آپ دائیں بازو کے حامی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ حکومت سے زیادہ تجارت میں یقین رکھتے ہیں اور اگر آپ بائیں جانب ہیں تو آپ مملکت کے زیادہ حامی ہیں۔

لیکن دونوں طرح کے لوگوں کچھ بنیادی باتوں پر اتفاق ہے کہ سٹیٹ کا کردار آئین میں بیان ہونا چاہيے اور اس کے اختیارات کی ایک حد مقرر ہونی چاہیے اور بہت سے شعبوں میں حکومت کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی حکومت ایک حد تک ہی ضروری ہے۔ اور سٹیٹ کے بارے میں چین کا نظریہ بھی مختلف نہیں ہے۔

وہ حکومت کو ایک خاندان کے فرد کے طور پر دیکھتے ہیں عام طور پر خاندان کے سربراہ کے طور پر۔ چین کے لوگ خاندان کو حکومت کا مندر مانتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ حکومت خود سے الگ کوئی خارجی چیز نہیں مانتے بلکہ اپنی نمائندگی کی توسیع مانتے ہیں۔ اور یہی سبب ہے کہ چینی حکومت کو سماج میں یہ بلند مقام حاصل ہے۔

چینی معیشت کی مثال لے لیں۔ گذشتہ تیس سالوں سے اس کی معیشت کی ترقی کی شرح دس فی صد سالانہ ہے اور یہ چینی حکومت کا کارنامہ ہے۔ اٹھارہویں صدی کے بعد سے یہ سب سے نمایاں معاشی بدلاؤ ہے۔

اگر چہ چین ابھی بھی غریب اور ترقی پذیر ملک ہے لیکن میں یہ بات ضرور کہوں گا کہ اس کی حکومت دنیا میں سب سے زیادہ لائق ہے۔

اگر انفراسٹرکچر یعنی بنیادی ڈھانچوں کی بات کریں جسے مغرب نے اب آ کر تسلیم کیا ہے اس معاملے میں چین کا کوئی ثانی نہیں۔ اس کے ریل کا نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے اور جلد ہی ساری دنیا کے مقابلے زیادہ وسیع ہونے جا رہا ہے۔

ابھی بھی چین کی زیادہ تر مقابلہ جاتی کمپنیاں حکومت کی ہی تحویل میں ہیں اور ان کی ایک بچے کی پالیسی کو اب بھی زبردست حمایت حاصل ہے۔

ہو جن تاؤ

بہر حال چین کے بارے میں مغربی دنیا میں کم ہی بات ہوتی ہے لیکن اب معاملہ الگ ہے۔ مغربی معیشت کافی خراب حالت میں ہے اور چین کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ایسے میں حکومت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا ماڈل بحران کا شکار ہے اور چین کا ماڈل بہتر نتائج دے رہا ہے۔

اگر چین کی یہ بلند پرواز قائم رہتی ہے اور یہ قائم رہے گی تو چین کی طاقت مغرب میں دلچسپی کا باعث ہوگی۔ ہمارے رشتے اب ان سے ویسے نہیں رہیں گے ہم انہیں یہ بتاتے رہیں کہ وہ ہمارے جیسے کیسے بنیں۔ تھوڑا انکسار تو ضروری ہے۔

اس بحث میں ان کا سٹیٹ آئے گا جسے ہم ابھی تک سب سے کمزور عنصر سمجھتے ہیں لیکن دراصل وہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

ایک حد کے بعد مغربی ممالک کے لیے چین کی طرح بننا ناممکن ہوگا کیونکہ دونوں کی تاریخ مختلف ہے اور سماج اور ریاست کے رشتے بھی مختلف ہیں۔ آپ مغربی ممالک کو چین اور چین کو مغربی ممالک میں تبدیل نہیں کر سکتے لیکن اتنا تو ضرور ہے کہ ہم چین سے سیکھیں جس طرح چین نے ہم سے سیکھا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔