یوگینڈا: امن مشن سے فوج کی واپسی کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 16:05 GMT 21:05 PST

افریقی ملک یوگینڈا کے قومی سلامتی کے وزیر مورولی مکاسا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے عالمی مشن کے تحت بھیجی گئی افواج واپس بلا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے ایک اہلکار کو نیویارک بھیجا تھا تاکہ اس فیصلے کے بارے میں اقوام متحدہ کو آگاہ کر دیا جائے۔

اس اقدام سے اقوام متحدہ کے صومالیہ، وسطی افریقی ریاست اور جمہوریہ کانگو میں امن مشن متاثر ہوں گے۔

اس اقدام کی وجہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ بتائی جاتی ہے جس میں یوگینڈا پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ کانگو کے باغیوں کو مسلح کر رہا ہے۔

قومی سلامتی کے وزیر موسکا نے ایک اخباری کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ جو بھی ہمیں مشکل میں ڈالے گا وہ ہمیں اپنے گھر میں پائے گا۔‘

خیال رہے کہ صومالیہ میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں تعینات افریقی امن فوج میں ایک بڑی تعداد یوگینڈا کے فوجیوں کی ہے۔

صومالیہ میں افریقی یونین کا امن مشن اسلامی شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں حکومت کی مدد کر رہا ہے۔

یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں بی بی سی سے نامہ نگار کیھترین بیروہانگا کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیراعظم اور قومی سلامتی سے متعلق وزیر نے کہا ہے کہ امن مشن سے نکلنے کا فیصلہ حمتی ہے تاہم سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا اور نہ ہی دفتر خارجہ کی جانب سے کوئی بیان جاری ہوا ہے۔

صومالیہ میں خودکش حملہ

افریقی ملک صومالہ کے دارالحکومت موغا دیشو کے ایک ریستوران پر دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔

موغا دیشو کے ہودان ضلع میں واقع ریستوران کے محافظوں نے خودکش حملہ آوروں کو روکا تو انہوں نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اس واقعے میں ریستوران کا ایک محافظ بھی ہلاک ہو گیا ہے۔

ایک مقامی شہری نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش حملہ آوروں نے ریستوران کے محافظوں پر فائرنگ بھی کی۔

ستمبر میں ایک ریستوران پر خودکش حملے میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ستمبر اور سنیچر کو شدت پسندی کا نشانہ بننے والے دونوں ریستورانوں کا مالک ایک ہی ہے۔

صومالیہ میں اس طرح کے حملے ایک معمول ہیں اور اکثر یہ حملے ملک کے زیادہ تر حصے کو کنٹرول کرنے والی اسلامی شدت پسند تنظیم الشاب کے جانب سے کیے جاتے ہیں جبکہ دیگر نجی ملیشیا اور جرائم پیشہ گروہ بھی ان حملوں میں ملوث ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔