تواضروس قبطی عیسائیوں کے نئے پوپ منتخب

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 18:35 GMT 23:35 PST
قبطی پوپ کے انتخاب کا عمل

قبطی پوپ کے انتخاب کا عمل قاہرہ کے گرجا گھر میں پورا کیا گیا۔

بشپ تواضروس کو مصر کے قبطی عیسائی مسلک کا نیا پیشوا یا پوپ منتخب کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس مسلک کے ماننے والے مشرقِ وسطی کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے سینٹ مارک کیتھڈرل میں منعقد ایک تقریب کے دوران انھیں نیا پوپ منتخب کیا گیا۔

اس تقریب میں ایک شیشے کے برتن میں سے تین ناموں میں سے ایک نام کو ایک ایسے بچے سے نکلوایا گیا جس کی آنکھوں پہ پٹی باندھی گئی تھی۔

ساٹھ سالہ تواضروس شنودا سوئم کی جگہ پوپ بنائے گئے ہیں۔ سابق پوپ کا مارچ کے مہینے میں اٹھاسی سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔

بشپ تواضروس ایک ایسے وقت میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں جبکہ مصر میں قبطیوں پر حملے بڑھ رہے ہیں اور بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں ملک کے نئی اسلامی قیادت سے خوف ہے۔

اس انتخابی عمل میں دو لوگ بشپ رفائل اور فادر رفائل اوامینا بھی شامل تھے۔ انھیں قبطی چرچ کی ایک کونسل کے ذریعے اکتوبر میں منتخب کیا گیا تھا۔ اس کونسل میں دوہزار چار سو اہلکار شامل تھے۔

ان کے نام کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھے گئے تھے جسے ایک شیشے کے برتن میں بلوریں گیندوں کے ساتھ موم جامہ کرکے چرچ کے منبر پر رکھا گیا تھا۔

بارہ منتخب بچوں میں سے ایک بچے نے اس نام کو نکالا۔ بچے کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس سے قبل تک تواضروس عبوری پوپ بشپ پاشومیئس کے معاون کی طور پر کام کر رہے تھے۔

اس کے بعد بشپ پاشومیئس نے بچے کے ہاتھ سے وہ بلوریں گیند لی اور اس سے لگی پرچی کو کیتھیڈرل میں موجود لوگوں کو کھول کر دکھایا۔

اس عمل کے لیے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی گڑبڑ کی گنجائش باقی نہیں رہے۔

تواضروس

تواضروس نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔

پوری تقریب ٹیلیویژن پر براہ راست دکھائی جا رہی تھی۔ تینوں نام ایک ہی طرح سے رکھے گئے تھے اور ان میں ذرہ برابر فرق نہیں رکھا گیا تھا۔

قبطیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ انتخاب خدا کے ذریعے ہوا ہے۔

بشپ توضروس کو اٹھارہ نومبر کو ایک تقریب میں اس عہدے پر فائز کیا جائے گا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وسیع انتظامی تجربہ ہے اور انھیں غیر یقینی حالات میں قبطیوں کی رہنمائی کے لیے اس کی ضرورت محسوس ہوگی کیونکہ گزشتہ سال کے انقلاب کے بعد اس ملک میں اسلام کے کردار پر بحث ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مصر کے لوگ ان سے کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں رکھتے۔ اس سے قبل پوپ شینودا نے مارچ میں اپنی موت سے قبل قبطی چرچ کو اس کی روایتی بنیاد مصر سے باہر بھی توسیع دی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔