قطر میں شامی حزب مخالف کی اہم کانفرنس

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 12:43 GMT 17:43 PST

قطر میں ہونے والے اجلاس ایک نئی کونسل بنانے کی کوشش کی جائے گی

شام میں صدر بشار الاسد کے مخالفین قطری دارالحکومت دوحہ میں یہ فیصلہ کرنے کے لیے جمع ہیں کہ شامی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور متحدہ محاذ کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

اس کانفرنس کے نتیجے میں ایک نیا محاذ بن سکتا ہے جو موجودہ شامی نیشنل کونسل جگہ لے سکے گا۔

شام میں لڑنے والے باغیوں نے شامی نیشنل کونسل پر تنقید کی ہے کہ یہ تنظیم زمینی حقائق سے لاتعلق ہے اور نظریاتی طور پر بھی شامی حزب مخالف میں تفرقہ پایا جاتا ہے۔

اسی دوران شام میں حالات بدستور کشیدہ ہیں جہاں دمشق میں ایک ہوٹل کے نزدیک دھماکے کی اطلاعات ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شامی نیشنل کونسل چار دنوں میں بات چیت کر کے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو ازسرنو مرتب کرے گی۔

اس میں کوشش کی جائے گی کہ مزید نوجوانوں کو سامنے لایا جائے جو زمینی حقائق سے بہتر طور پر واقف ہیں۔

اسی طرح ایک نئی متحدہ قیادت کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی جو تنظیم کو آگے لے جا سکے۔

اسی طرح یہ شامی نیشنل تحریک سے جو کہ حزب مخالف کے بااثر رہنماؤں کا ایک گروہ ہے، بھی بات چیت کرے گی جس نے ایک متحدہ قیادت کی تجویز دی ہے جو کہ اگلے مہینے تک جلاوطنی میں ایک حکومت قائم کر سکیں۔

امریکہ شامی حزب اختلاف کے مشترکہ رہنما کے طور پر ریاد سیف کو پیش کر رہا ہے جو اردن کے دارالحکومت میں ہونے والے ایک حزب اختلاف کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔

امریکی حلقوں کی جانب سے شامی حکومت سے منحرف ہونے والے ریاد سیف کا نام اس نئی حکومت کے سربراہ کے طور پر تجویز کیا جا رہا ہے۔

ریاد سیف نے ایک خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں بتایا کہ ’موجودہ شامی قیادت کے متبادل کی بہت ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایک عارضی دور کی بات کر ہے ہیں جس میں ایک سیاسی قیادت کی تشکیل ہو گی اس وقت تک جب اسد حکومت کے اختتام کے بعد ایک قومی پارلیمان جس میں تمام شامیوں کی نمائندگی ہو وجود میں آئے‘۔

ریاد سیف حزب مخالف کے ان بیس رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو جمعرات کو عمان میں نئی قیادت کی تشکیل کے لیے تجاویز مرتب کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

اس اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’اسد اور ان کے حواریوں کا اقتدار سے علیحدہ ہونا کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے شرطِ اول ہے‘۔

شامی حزب اختلاف میں اختلافات نئی بات نہیں ہے لیکن حال ہی میں ان اختلافات میں شدت آتی دیکھی جارہی ہے اور اسلام پسند اور سیکولر گروہوں کے اختلافات ان کا حصہ بن گئے ہیں۔

دوحہ میں شامل ہونے والوں میں کئی مذہبی رہنما اور سیکولر گروہ شامل ہیں اس کے علاوہ کردہ جنگجو اور علوی فرقہ کے منحرفین بھی شامل ہیں۔

دوحہ میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے شروع ہونے سے ایک روز پہلے شامی باغیوں نے حلب کے قریب سرکاری کنٹرول میں ہوائی اڈے پر قبضے کےلیے شدید حملہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق فری سریین آرمی کے باغیوں نے سنیچر کی صبح حلب کے قریب ہوائی اڈے تافتناز پر قبضے کے لیے حملہ کیا اور وہاں رات گئے تک لڑائی جاری رہی۔

"ہم ایک عارضی دور کی بات کر ہے ہیں جس میں ایک سیاسی قیادت کی تشکیل ہو گی اس وقت تک جب اسد حکومت کے اختتام کے بعد ایک قومی پارلیمان جس میں تمام شامیوں کی نمائندگی ہو وجود میں آئے۔"

شامی منحرف رہنما ریاد سیف

باغی اس اہم ہوائی اڈے تافتناز کو ہر صورت پر حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اس اڈے کو استعمال کرتے ہوئے باغیوں کے اڈوں پر ہوائی حملے کرتی ہے۔

امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ شام کے اپوزیشن گروہ متحد ہو کر صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے موثر کارروائیاں کریں۔

امریکی حکام کچھ عرصے سے فری سیرئین آرمی سے مایوس ہوتے نظر آرہے ہیں جس وجہ سے امریکہ چاہتا ہے کہ شام کی حزب اختلاف کے گروہ متحد ہو کر کارروائیاں کریں۔

بعض مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ شام کی اپوزیشن متحد ہو کر ایک عبوری حکومت قائم کرنے کا اعلان کرے۔ فرانس نے ایسی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ بھی دے رکھا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔