برطانیہ کے بےوطن بچے

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 10:31 GMT 15:31 PST

بی بی سی کے لندن میں کیے جانے والے ایک جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں ایسے بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن کی کوئی شہریت نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی سرکاری ریکارڈ ہے۔

یہ بےوطن بچے شہر میں انتہائی برے حالات میں زندگی گزارتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ہیں جو جسم فروشی سے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں۔

بی بی سی نے مزید تحقیق کے بعد اس بات کا اظہار کیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف لندن تک محدود نہیں بلکہ دوسرے بڑے شہروں جیسا کہ برمنگھم، لیڈز، کوونٹری، نوٹنگھم، نیو کاسل، لیورپول، آکسفرڈ اور کارڈف میں بھی موجود ہے۔

اسائلم ایڈ نامی خیراتی ادارے کے کرس نیش نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بےوطنی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کسی صورت بھی صرف لندن تک محدود نہیں ہیں۔

لیکن ان کے خیال میں لندن میں یہ مسئلہ سب سے شدید ہے۔

ان میں سے بہت سارے بچے برطانیہ قانونی طریقے سے آئے تھے مگر ان کا کبھی بھی اندارج نہیں کیا گیا۔ اسی بنیاد پر یہ بچے تعلیم اور حکومتی امداد سے ملنے والی رہائش اور دوسری سہولیات کے مستحق بھی نہیں سمجھے جاتے۔

"ہمیں اب تک اس اس طرح کے چھ سو سے زائد نوجوانوں نے رابطہ کیا ہے اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔"

سیف اینڈ ساؤنڈ کی جینیفر بلیک

بی بی سی نے دو معروف خیراتی اداروں سے رابطہ کیا جو نوجوانوں کے حوالے سے سرگرم ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ شہر میں ایسے بچوں کی تعداد ’سینکڑوں‘ میں ہے۔

کورم اور پیکھم پراجیکٹ سیف اینڈ ساؤنڈ دو ایسے خیراتی ادارے ہیں جو اس بارے میں مزید رائے عامہ میں آگہی کے لیے کوشاں ہیں۔

سیف اینڈ ساؤنڈ کی جینیفر بلیک نے کہا ’ہمیں اب تک چھ سو سے زائد ایسے نوجوانوں نے رابطہ کیا ہے اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘

جینیفر ایک سترہ سالہ یوگینڈن لڑکے ٹونی کے لیے رہائش کی کوششیں کر رہی ہیں جنہیں ان کے والد نے اس وقت گھر سے نکال دیا تھا جب وہ یوکے میں رہائش پذیر تھے اور تب سے وہ بسوں میں اور سڑکوں پر سو رہے ہیں۔

ٹونی نے بتایا کہ ان کے لیے زندگی ’مسلسل جدوجہد ہے کیونکہ جب آپ بھوکے ہوتے ہیں تو بھوک مٹانے کے لیے پیسے چاہیے ہوتے ہیں اور اگر آپ چوری کرتے ہیں تو آپ جیل جائیں گے جو میں نہیں چاہتا کیونکہ میں ایسا نہیں ہوں۔‘

دو سال سڑکوں پر رہنے اور خوراک اور رہائش کی تلاش نے ٹونی کی صحت کو بہت متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس سال جب سردی آئی تو مجھ پر اس کا بہت اثر ہوا میں ہر وقت کھانس اور چھینک رہا ہوتا تھا جس کی وجہ سے میں بہت دبلا ہو گیا ہوں۔‘

"میں بعض اوقات اپنے آپ کو مارنا چاہتی ہوں کیونکہ میں نہایت ہی گھٹیا کام کیے ہیں وہ بھی چند پاؤنڈز یا بعض اوقات چند سکوں کے عوض۔ صرف اس لیے کہ میں اپنے پیٹ کی بھوک مٹا سکوں یا ایک رات کہیں بسر کر سکوں۔"

ایک سترہ سالہ لیبین بے وطن لڑکی

ان بے وطن بچوں میں سے کئی چودہ سال تک کے بھی ہیں جنہیں کسی قسم کی امداد تک رسائی نہیں ہے اور ان میں سے کئی اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے جرائم کا رستہ اختیار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ٹونی جیسے بچوں کا قانونی شہری بننا قریباً ناممکن ہے۔

اپنے خاندانوں سے لاتعلق ہونے کی وجہ سے ان کے لیے امیگریشن حکام کو اپنی شناخت ثابت کروانا مشکل ہوتا ہے۔

جیسا کہ ٹونی کا کہنا ہے کہ ’وہ (امیگریشن حکام) کہتے ہیں کہ مجھے اپنے والد سے ایک خط درکار ہو گا۔ اب میں اپنے والد سے خط کیسے حاصل کروں؟‘

اسی طرح کئی بے وطن لڑکیاں جنسی استحصال کا شکار ہیں۔

ایک سترہ سالہ لڑکی کا، جسے لیبیا سے دو ہزار نو میں سمگل کر کے برطانیہ لایا گیا تھا، کوئی ملک نہیں ہے جسے وہ اپنا کہہ سکیں۔

لیبیا میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے ان کی والدہ نے انہیں اپنی ایک دوست کے پاس برطانیہ بھجوایا تھا لیکن چند ماہ میں ہی ان کی سرپرست نے انہیں چھوڑ دیا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تب سے وہ سڑکوں پر رہ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات میں ’اپنے آپ کو مارنا چاہتی ہوں کیونکہ میں نے نہایت ہی گھٹیا کام کیے ہیں وہ بھی چند پونڈ یا بعض اوقات چند سکوں کے عوض، صرف اس لیے کہ میں اپنے پیٹ کی بھوک مٹا سکوں یا ایک رات کہیں بسر کر سکوں۔‘

آکسفرڈ یونیورسٹی کے سنٹر برائے مائیگریشن اینڈ سوسائٹی یعنی ہجرت اور معاشرے کے بارے میں مرکز کا کہنا ہے کہ لندن اور برمنگھم بے وطنی کا شکار لوگوں کے بڑے مراکز ہیں۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترپن بچوں یا والدین سے بات کی جن کا تعلق افغانستان، برازیل، چین، جمیکا، نائجیریا، ایران، عراق، اور ترکی کے کرد علاقوں سے ہے۔

ایک بچہ بے وطن کیسے ہوتا ہے؟

بی بی سی کے ایڈ ڈیوی کا جواب

ہو سکتا ہے کہ یہ بچہ برطانیہ میں بغیر کسی قسم کی سفری دستاویزات کے غیر قانونی طور پر داخلا ہوا ہو۔

والدین اکثر ان بچوں کے بارے میں قانون کو نہیں بتاتے کہ کہیں حکومت انہیں ملک بدر کر کے واپس نہ بھجوا دے۔

اس طرح اگر ایک بچہ اپنے والدین یا سرپرست کے پاس سے بھاگ جائے تو پھر اس کے پاس اپنی شناخت کے لیے کوئی دستاویزات نہیں ہوتیں۔

اس کے بعد برطانوی شہریت کا حصول جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔

سفری دستاویزات یا مکمل کاغذات کی غیر موجودگی میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ اس کا ملک اسے واپس وصول کر سکے۔

اس تنظیم کے محققین کے مطابق لندن کے بچوں میں دسواں حصہ ایسے بچوں کا ہے جن کے برطانیہ میں رہنے کے قانونی کاغذات واضح نہیں ہیں۔

اس تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان بچوں کے بارے میں معین اعداوشمار اس لیے نہیں ہیں کیونکہ یہ بے وطن ہیں۔

بی بی سی کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بعض مقامی کونسلز ان بچوں کی عمر ان کی اصل عمر سے کہیں زیادہ دکھاتی ہیں تاکہ ان کی ذمہ داری ان پر نہ عائد ہو۔

فشر میریڈتھ نامی ادارے میں وکیل عمارہ احمد کا کہنا ہے کہ وہ بہت سارے ایسے بچوں کی جانب سے مختلف مقامی کونسلز کے خلاف اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں۔

کورم نامی ادارے کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ مقامی کونسلز کی جانب سے اس قسم کی چالوں سے واقف ہیں۔ دونوں اداروں نے اس قسم کی کسی مقامی کونسل کا نام لینے سے گریز کیا۔

کورم کے قانونی امداد کے شعبے کے رکن کیمانا ڈورلنگ نے کہا ’اگر آپ برطانیہ میں ایک بچے ہیں تو آپ بےشک کسی طور بھی اس ملک میں ہیں اس سے قطع نظر مقامی کونسل کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کی دیکھ بھال کرے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ حقیقت میں اکثر ایسا نہیں ہوتا۔‘

بی بی سی کی اس تحقیق کے بعد سے ٹونی کی شہریت کا مسئلہ تو حل ہو گیا ہے اور اب وہ ایک برطانوی شہری ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ ابھی تک بےگھر ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔